تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 462 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 462

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۵۹ رسالہ حمید الا زبان کا اجراء بڑی قابلیت سے لکھے گئے ہیں۔اس رسالہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایک پیشوائے مذہب کے گھر سے شائع ہوتا ہے اور امام وقت کے صاحبزادے اس کو ایڈٹ کرتے ہیں۔" اخبار " نیر اعظم ( مراد آباد) نے لکھا۔بلا مبالغہ اسلامی رسالوں میں ریویو آف ریلیجز کے بعد اس کا شمار کرنا چاہئے۔مذہب اسلام کو اس کے اجراء سے بہت مدد ملے گی۔" شعید الاذہان کی خدمات یہ رسالہ ابتداء میں سہ ماہی تھا مگر اگلے ہی ال ماہ وار کر دیا گیا اور قوم کی توقعات کے عین مطابق بہت جلد کامیاب رسالوں کی صف اول میں شمار ہونے لگا۔اس زمانہ میں آپ کے زیر ادارت بڑے بڑے معرکتہ الاراء مضمون نکلے۔۱۹۱۴ء میں "شمیذ الاذہان کے ایڈیٹر قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل آف گو لیکے مقرر ہوئے جنہوں نے آٹھ سال تک ادارتی فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دئے۔آخر مارچ ۱۹۲۲ء میں اسے ریویو آف ریلیجز "اردو میں مدغم کر دیا گیا۔چراغ الدین جمونی کی ہلاکت کا نشان ایک شخص چراغ الدین جمونی نے جو پہلے احمدی تھا ۱۹۰۲ء میں احمدیت کو چھوڑ کر نبی و رسول ہونے کا ادعا کیا۔حضرت مسیح موعود کو الہا ، بتایا گیا کہ اگر اس نے توبہ نہ کی تو ہلاک ہو جائے گا۔اس آسمانی خبر کے کچھ عرصہ بعد اس نے حضور کے خلاف مباہلہ کی ایک دعا لکھی۔خدا کی قدرت مضمون مباہلہ کی کاپی کاتب کے لکھنے کے بعد ابھی پتھر پر بھی نہیں جھی تھی کہ اس کے دونوں لڑکے طاعون میں مبتلا ہو کر مر گئے اور آخر ۴ / اپریل ۱۹۰۶ ء کو وہ خود بھی طاعون کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا۔عبدالحکیم پٹیالوی کا جماعت سے اخراج اس کی پیش گوئی اور انجام ریاست پٹیالہ کا ایک شخص ڈاکٹر عبدالحکیم چراغ الدین جمونی کی طرح پہلے سلسلہ احمدیہ میں داخل تھا جس نے یہ عقیدہ قائم کر لیا کہ معاذ اللہ نجات اخروی کے حصول کے لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو وحدہ لا شریک جانتا ہے گو آنحضرت ا کا مکذب ہے وہ نجات پائے گا۔یہ عقیدہ چونکہ احمدیت کی تعلیم کے سراسر منافی اور گستاخانہ تھا اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ۳۰ / اپریل ۱۹۰۶ء کو اعلان شائع کیا کہ اس سے بکلی قطع تعلق کر