تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 460
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۵۷ رسالہ حمید الاذہان کا اجراء رسالہ "تشحمید الاذہان کا اجراء یکم مارچ ۱۹۰۶ ء سے حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ادارت میں ایک سہ ماہی رسالہ کا اجراء ہوا جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انجمن شعید الاذہان " ہی کے نام پر " شعید الاذہان " رکھا۔اس رسالہ کے مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد تھے۔اسلام کا نورانی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا۔۲۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ نصائح جو گھر میں کہے جاتے ہیں شائع کرنا۔اسلام اور خصوصاً سلسلہ احمدیہ پر اعتراضات کا تہذیب کے ساتھ رد کرنا۔مشاہیر اسلام کی سوانح عمریاں درج کرنا۔مسائل شرعیہ کا اندارج تا ناواقف لوگ واقفیت حاصل کریں۔اس رسالہ سے کوئی مالی فائدہ ہرگز ہرگز متصور نہیں ہو گا اور جو آمد بھی ہوگی اشاعت اسلام میں خرچ کی جائے گی۔اپنوں اور بیگانوں کی طرف سے پر جوش خیر مقدم ریویو آپ ریلی و " کی طرح " بیگانوں کی طرف سے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا گیا۔چنانچہ۔اس رسالہ کا بھی اپنوں اور ا۔مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔"رسالہ شعید الاذہان قادیان سے سہ ماہی نکلنا شروع ہوا ہے جس کا پہلا نمبر یکم مارچ کو شائع ہو گیا ہے اس سلسلہ کے نوجوانوں کی ہمت کا نمونہ ہے۔خدا تعالٰی اس میں برکت دے۔چندہ سالانہ ۱۲ / ( آنے) ہے۔اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین