تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 457
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۵۴ انقلاب ایران کے متعلق پیش گوئی الشان مشن کو آخر دم تک جاری رکھا۔خدا تعالٰی نے ان کو رویاء کشوف کی نعمتوں سے بھی نوازا تھا۔علم و فضل کے اعتبار سے آپ کی شخصیت جماعت کی خواتین میں مسلمہ طور پر بڑی ممتاز حیثیت رکھتی تھی۔سال ہا سال تک "لجنہ اماءاللہ " کی نائب صدر رہیں اور احمدی عورتوں کی تعلیم اور اخلاقی اور دینی ترقی میں نمایاں حصہ لیا۔جلسہ سالانہ پر عورتوں کے قیام و طعام کے جملہ انتظامات آپ ہی کی نگرانی میں ہوتے تھے۔غرض کہ اپنی عظمت دو جاہت کے لحاظ سے مد نبوی کی حمایت کایا جاتا نمونہ اور جاعت کی نہایت برگزیدہ ہتی تھیں۔۸/ستمبر ۱۹۵۷ء کو آپنے نقل فرمایا اور ربوہ کے مقبرہ خاص میں دفن ہو ئیں۔حیات محمد علی جناح از سید رئیس احمد جعفری کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ نے بھی انہیں تاثرات کا اظہار کیا تھا۔امه کتاب "LIFE AND TIMES OF TILAK کے صفحہ ۵۰ میں لکھا ہے کہ لارڈ کرزن کے فیصلہ تقسیم بنگال کے طول و عرض میں ایک زبر دست آگ لگادی تھی۔۴۲ تاریخ ہند صفحه ۲۳۰ ۴۳- "بدر ۱۶ / فروری ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم 1 حکم ۱۷ / فروری ۱۹۰۷ء صفحہ اکالم 1 -۴۴ بحوالہ اخبار بدر ۱۴ جنوری ۱۹۱۳ء صفحه ۳-۴ ۴۵ بحوالہ الحکم ۲۱ دسمبر ۱۹ ء - King George v his life and reigin صفحہ ۱۲۸ مطبوعہ کانسٹیل اینڈ کمپنی لنڈن ۴۷ اخبار "عام " نے لکھا۔حضور شہنشاہ معظم نے دیکھ لیا کہ اہل بنگال کی بیزاری نہ تو مصنوعی ہے اور نہ ہی بے جا ہے اور دوبار کارو نمیشن ( تاج پوشی کی رعایتوں میں اس کے متعلق ایسی دل جوئی فرمائی ہے گویا کہ ایک اشارہ سے تمام بنگالہ میں شب تاریک کو روز روشن کا ہنس مکھ نظارہ بنا دیا ہے۔"پایونیر الہ آباد) نے لکھا۔" تقسیم بنگال منسوخ ہو گئی ہے اور بنگالیوں کی منہ مانگی مراد ملی ہے۔"لیڈ ر الہ آباد نے لکھا " تقسیم بنگال کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ہے گویا بنگالیوں کے زخمی دل پر مرہم رکھ دیا گیا ہے۔" انڈین ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھا ” معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم بنگال کی منسوخی کے سوال پر غور کرتے ہوئے بنگالیوں کی دلجوئی کو خاص طور پر مد نظر رکھا گیا ہے ورنہ ہمارا خیال ہے کہ اگر لبرل فریق کی بجائے آج کسر ویو فریق بر سر حکومت ہو تا تو تقسیم بنگال کی منسوخی کا فیصلہ ہر گز نہ کیا جاتا۔(بحوالہ اخبار الحکم ۲۱ دسمبر ۶۱۹ ) ایک غیر احمدی عالم کا اقرار مولوی سمیع اللہ صاحب فاروقی لکھتے ہیں۔۱۹۰۵ء میں لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔وائسرائے بہادر کے اس اقدام سے بنگالی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ بنگال کو دوبارہ متحد کر دیا جائے۔وائسرائے نے انکار کیا۔بنگالیوں نے انار کی شروع کر دی۔چنانچہ صوبہ بنگال میں تشدد کا دور دورہ شروع ہو گیا۔انارکسٹ پارٹی نے ہم سازی اور بم باری شروع کر دی۔کئی انگریزوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔پولیٹیکل ڈاکوؤں کا سلسلہ شروع ہو گیا الغرض بنگال کی حالت بے حد خطر ناک ہو گئی لیکن وائسرائے صاحب نے صاف طور پر اعلان کر دیا کہ وہ تقسیم بنگال کو ہرگز منسوخ نہ کریں گے۔اس حالت میں کون سمجھ سکتا تھا کہ وائسرائے کا یہ حکم منسوخ ہو جائے گا اور بنگالیوں کی دل جوئی ہوگی۔مگر قارئین متعجب ہوں گے کہ ۱۹۰۲ء میں مرزا صاحب کو اطلاع ملی کہ "پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی اس کے بعد بھی حکومت کی طرف سے یہی کہا جاتا تھا کہ اس حکم میں کوئی ترمیم نہ ہوگی۔لیکن 1916ء میں شاہ جارج پنجم ہندوستان میں تشریف لائے اور آپ نے تقسیم بنگال کو منسوخ کر کے بنگالیوں کی دلجوئی کر دی۔گویا پانچ سال بعد خود بادشاہ سلامت کے ہاتھوں مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔یقینا اس پیش گوئی کے پورا ہونے میں صاحب نظر لوگوں کے لئے ایک سبق ہے اور اصحاب دانش کے لئے غورو فکر کا موقعہ ہے۔" (اظہار حق صفحہ ۱۸) پاکستان کے مشہور اہل علم جناب رئیس احمد جعفری لکھتے ہیں۔" حکومت نے تقسیم کا اعلان منسوخ کر دیا لیکن دل ہی دل میں وہ نادم بھی تھی۔اپنی کمزوری اور بزدلی کو محسوس بھی کر رہی تھی۔اپنی مفت کو مسلمانوں کی اشک شوئی کر کے منانا چاہتی تھی۔