تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 456
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۵۳ انقلاب ایران کے متعلق پیش گوئی آپ نے خواب میں دیکھا کہ گویا پیغمبر خدا اللہ کا روضہ ہے اور حضور ﷺ حضرت مرزا صاحب کی شکل میں باہر تشریف لائے اور مجھ سے معانقہ کیا۔آپ عمر میں بارہ سالہ نوجوان معلوم ہوتے ہیں۔انہوں نے خیال کیا حضور ا کس طرح زندہ ہو گئے ہیں تو خود ہی سوچا کہ مرزا صاحب جو بروز کا دعوی کرتے ہیں۔وہ یہی واقعہ نہ ہو۔آپ برسوں تک گجرات کے امیر جماعت کے کامیاب فرائض سر انجام دیتے رہے۔(الفضل ۲۴٬۲۳ / جولائی ۱۹۵۷ ء روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۱۰ صفحه ۲۶ - (<• والد جناب مولوی نذیر احمد علی صاحب رئیس التبلیغ افریقہ۔ولادت ۱۸۷۹ء وفات ۱۳/ دسمبر ۱۹۵۹ء نشی عبد الغنی صاحب او جلوی نے ان کو حضور کا اشتہار " الانذار " بھجوایا جس سے متاثر ہو کر بذریعہ خط انہوں نے بیعت کرلی۔نومبر ۱۹۰۵ء میں پہلی مرتبہ قادیان آئے اور حضرت اقدس کی زیارت سے مشرف ہوئے ( روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۸ صفحہ ۱۸۱-۱۸۵) قادیان کے سب سے پہلے اسٹیشن ماسٹر آپ ہی تھے۔نیکی ، تقوئی دیانت داری اور راست بازی میں آپ ایک مثالی ریلوے ملازم مشہور تھے۔(تفصیلی حالات اصحاب احمد جلد سوم طبع دوم متولقہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے میں ملاحظہ ہوں)۔۲۹ ولادت کے ۱۸۷ ء وفات کے / اگست ۱۹۶۱ء۔بیعت سے دو برس بعد مسیح موعود علیہ السلام کی قادیان میں زیارت کی۔الہ آباد یونیورسٹی سے بی۔اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد ۱۹/ مئی 1999ء سے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور مدرس متعین ہوئے اور ۱۹۳۸ء تک ابتداء مدرس پھر ہیڈ ماسٹر بعد ازاں منیجر نصرت گر از سکول کی حیثیت سے تعلیمی و انتظامی خدمات سرانجام دیتے رہے۔آپ نے مولوی محمد جی صاحب فاضل کی مدد سے ایک لغت " تسہیل العربیہ" کے نام سے شائع کی جو مقبول ہوئی۔(اصحاب احمد جلد (۸) ۳۰ ولادت اکتوبر ۱۸۷۳ ء وفات ۱۷/ امان ۱۳۴۳ اهش (۱۷/ مارچ ۱۹۶۴ء) سلسلہ احمدیہ کے صاحب کشف و الہام بزرگ تھے جن کی پوری زندگی تبلیغ اسلام و احمدیت میں گزری۔۱۹۰۹ء سے ۱۹۲۲ء تک پنجاب میں تبلیغی خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۲۳ء سے ۱۹۲۸ء تک سندھ کے پہلے امیر ا تبلیغ کی حیثیت سے سرفروشانہ کارنامے سر انجام دئے اور ساٹھ کے قریب جماعتیں قائم کیں۔حضور نے اس زمانہ میں آپ کو بیعت لینے کی اجازت بھی دے دی تھی۔۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۸ء تک آپ مرکز میں ابتد اء واعظ مقامی پھر متفرق کلاس کے معلم اول رہے۔۱۹۳۸ ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔آپ نے اپنی سوانح اور تبلیغی جد وجہد کے حالات حیات بقاپوری" کے نام سے اپنی زندگی میں شائع فرما دئے تھے جو بہت ایمان افروز اور معلومات افزاء ہیں۔(مزید حالات کے لئے ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۲۱۱ - ۲۳۴) ۳۱- ولادت ۱۸۹۲ء من زیارت ۲۳/ اگست ۱۹۰۷ء ماسٹر صاحب کو قریباً نصف صدی تک سلسلہ احمدیہ کی علمی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے ۱۹۱۳ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ملازم ہوئے اور ۱۹۴۶ء میں سیکنڈ ماسٹر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔اس درمیانی عرصہ میں آپ کو پرائیوٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ المسیح الثانی ، نائب ناظر تعلیم اور نائب نا ظر امور عامہ وغیرہ عہدوں پر بھی وقتاً فوقتا کام کرنا پڑا۔ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجز " افسر لنگر خانہ، نائب ناظر تألیف و تصنیف اور لیکچرار جامعہ نصرت کا لج ربوہ کے فرائض بھی سرانجام دئے ہیں۔(وفات ۱۴۔جنوری ۱۹۷۹ء) ۳۲- الحکم ۲۴۔جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ اکالم ۴ ۳۳ انسائیکلو پیڈیا برٹنیکا ( زیر لفظ مظفر الدین) ۳۴- ملخصا از دعوۃ الا میر صفحه ۲۰۴-۲۰۵ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا بر شنیکا "زیر لفظ Persian) -۳۵۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ (Persia) ۳۶- بدر ۹/ فروری ۱۹۰۶ء حصہ ۲-۵ ۳۷- بدر ۹/ فروری ۱۹۰۶ء صفحه ۲-۵ ۳۸- الحکم ۱۰ / فروری صفحہ ۱ اکالم ۲-۳ ۳۹- سلسلہ احمدیہ کی نہایت بلند مقام رکھنے والی خاتون تھیں۔اپنے قابل فخر شوہر کی زندگی میں ان کے شانہ بشانہ خدمت دین ، خلق اللہ کی فلاح، بینائی اور مساکین کی نگہداشت اور غرباء کی امداد کے لئے مصروف رہیں۔ان کی وفات کے بعد بھی اپنے اس عظیم