تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 444 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 444

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ قرب وصال سے متعلق الهامات نظام نو کی بنیاد تحریک الوصیت در اصل دنیا کے نظام نو کی بنیاد ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے نائب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے ۱۹۴۲ء میں اس کی وضاحت میں فرمایا تھا ” جب وصیت کا نظام مکمل ہو گا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشاء کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹادیا جائے گا۔انشاء اللہ۔یتیم بھیک نہ مانگے گا۔بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی۔بے سامان پریشان نہ پھرے گا۔کیوں کہ وصیت بچوں کی ماں ہو گی۔جوانوں کی باپ ہو گی۔عورتوں کا سماگ ہوگی۔اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کی اس کے ذریعہ سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہو گا بلکہ ہر دینے والا خدا تعالیٰ سے بہتر بدلہ پائے گا۔نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہو گا۔" صدر انجمن احمدیہ کی بنیاد te "بہشتی مقبرہ " کی آمد کی حفاظت اسے فروغ دینے اور خرچ کرنے کے لئے حضور نے ایک انجمن بنائی جس کا نام " انجمن کار پردازان مصالح بهشتی مقبره تجویز فرمایا اور اس سلسلہ میں بعض خاص ہدایات دے کر الوصیت کے ساتھ بطور ضمیمہ درج کر کے لکھا کہ ” یہ ضروری ہو گا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے کیوں کہ خدا نے اس مقام کو برکت دی ہے۔" یہ امجمن کوئی دنیوی یا جمہوری طرز کی کوئی انجمن نہیں تھی بلکہ ان اموال کی حفاظت اور توسیع اور اشاعت اسلام کی غرض سے بنائی گئی تھی جو نظام الوصیت کے نتیجہ میں جماعت کو عطا ہونے والے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے مشورہ دیا کہ بہشتی مقبرہ والی انجمن کو قانونی وسعت دے کر دوسرے جماعتی اداروں ( مثلا ریویو آف ریلیجز اور تعلیم الاسلام وغیرہ) کو بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا جائے اور اس کا نام صد را انجمن احمد یہ رکھا جائے۔جماعتی تنظیم کے اعتبار سے یہ ایک معقول اور مفید تجویز تھی اس لئے حضور نے اسے قبول بھی فرمالیا اور ۳۱/ جنوری ۱۹۰۶ء تک اس کے قواعد و ضوابط تجویز کر لئے گئے جو ۱۰ / فروری ۱۹۰۶ ء کی ا حکم اور ۱۶ / فروری ۱۹۰۶ ء کے "بدر" میں جماعت کی اطلاع کے لئے شائع بھی کر دئے گئے۔اس طرح اصل انجمن کار پرداز مصالح قبرستان میں ہی دوسرے تمام جماعتی ادارے مدغم کر کے موجودہ صدر انجمن احمدیہ کی بنیاد پڑی۔اور قواعد ضوابط کے مطابق پہلی وصیت بابا محمد حسن صاحب او جلوی کی منظور کی گئی۔مدرسه