تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 445
جلد ۲ ۴۴۴ قرب : حال سے متعلق الہامات انجمن کا نظم و نسق صدر انجمن احمدیہ کے زیر انتظام چار مجالس انتظامی قواعد میں شامل کی گئیں۔مجلس اشاعت اسلام۔مجلس کار پردازان مصالح قبرستان - مجلس تعلیم ، مجلس انتظام امور متفرقہ۔مجلس معتمدین کے ارکان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجلس معتمدین کے مندرجہ ذیل عہدیدار ارکان نامزد فرمائے۔ا۔حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی پریذیڈنٹ) ۲۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایل۔ایل۔بی (سیکرٹری) ۳۔خواجہ کمال الدین صاحب وکیل چیف کورٹ پنجاب ( قانونی مشیر) -۴ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (رکن) ۵- مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی (رکن) ۶۔خان صاحب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ (رکن) ے۔سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراس (رکن) - مولوی غلام حسن صاحب سب رجسٹرار پشاور (رکن) ۹ - میر حامد شاہ صاحب سپرنٹنڈنٹ عدالت ضلع سیالکوٹ (رکن) ۱۰۔شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویر ہاؤس لاہور (رکن) 11۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسٹنٹ سرجن لاہور (رکن) ۱۲۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسٹنٹ سرجن (رکن) ۱۳۔ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اسٹنٹ سرجن (رکن) ۱۴۔ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب اسٹنٹ سرجن (رکن) المختصر " صدر انجمن احمدیہ " جماعت کا محض انتظامیہ ادارہ تھا جس جماعت کا انتظامیہ ادارہ کے ذمہ بہشتی مقبرہ اور دوسرے صیغوں کے اموال کی حفاظت کا کام کیا گیا۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ کے پہلے جنرل سیکرٹری مولوی محمد علی صاحب نے انجمن کی پہلی سالانہ رپورٹ میں یہ بات واضح کرتے ہوئے لکھا تھا ” اس مجلس کے چودہ ممبر ہیں جن کو حضرت صاحب نے خود مقرر فرمایا اور ان کے امیر یعنی میر مجلس اپنی فراست سے اس عظیم الشان انسان کو قرار دیا جو علم الی میں آپ کے بعد آپ کا خلیفہ ہونے والا تھا اور جو اس وقت ہم سب کے امیر اور مقتدر ہیں۔اس مجلس کے سپرد حضرت اقدس نے اس سلسلہ کے کل انتظامی کاروبار کو کیا۔" " اشتهار تبلیغ الحق" iti حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی شخص نے حضور کے کسی نادان مرید کے متعلق یہ افسوس ناک خبردی کہ اس نے سید الشہداء حضرت امام حسن علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔حضرت اقدس کو آنحضرت ﷺ سے عشق کامل تھا اور اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کو حضرت ابو بکر