تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 419
تاریخ احمدیت جلد ۲ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد تک ہی محدود سمجھ لیا ہے۔اگر ان کا ایسا خیال ہے تو غلط ہے اور بالکل غلط ہے۔بلکہ یہ سب کچھ حضور ہی کی برکت کا نتیجہ ہے۔یوں ان کو اختیار ہے کہ وہ علیحدہ رسالہ جاری کر دیں۔لیکن وہ بھی دوسرے اسلامی رسالوں کی طرح بے مغز اور بے برکت ہوگا۔۔۔خدا کے لئے مینجر صاحب ریویو کو حکم دے دیویں کہ وہ اپنے ان خیالات کو چھوڑ دیں ورنہ جو رسالہ یا کتاب یا اخبار ہمارے سردار حضرت مسیح موعود کے ذکر اور تعلیم سے خالی ہے وہ ہمارا نہیں۔" Ar مولوی انشاء اللہ خان کی مخالفت مولوی انشاء اللہ خان نے جب اپنی تجویز کا یہ حشر دیکھا کہ جماعت کا کوئی مخلص فردان کی تحریک پر رضامند ہونے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے جماعت احمدیہ پر تنگ ظرفی کا الزام دے کر مخالفت شروع کر دی اور اخبار میں لکھا کہ ان کی تحریک کے باعث بہت سے لوگوں نے ریویو کی اعانت کے چندے قادیان بھیج دئے ہیں۔مطلب یہ تھا کہ گویا چندوں کی بھاری رقوم تھیں جو ہضم کرلی گئیں۔حالانکہ اصل واقعہ تھا کہ اخبار "وطن" کی تحریک پر چندہ دینے والے صرف چار اصحاب تھے جن میں سے دو تو احمدی تھے۔تیسرے شخص منشی امام بخش صاحب تھے جنہوں نے جو ابا لکھا کہ ”میں نے جو چندہ دیا وہ حب اسلام کی خاطر تھا اور میں ہر گز اس کو واپس لینے پر آمادہ نہیں بلکہ اس کو باعث شرم سمجھتا ہوں۔" چوتھے کو لکھا گیا کہ چندہ واپس لے لیں مگر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔مولوی انشاء اللہ خال پر فتویٰ کفر مولوی انشاء اللہ خان کی تحریک اور مخالفت دونوں دراصل محض ذاتی مصالح کی بناء پر تھیں۔خدمت اسلام کا جذبہ اس میں کار فرما نہیں تھا۔وہ خالص دنیا دار آدمی تھے اور دین کے نام پر دنیا کمانے کے فن میں ماہر۔چنانچہ ایڈیٹر صاحب اخبار "الحکم" نے مولوی انشاء اللہ خاں کے صلح پسند مسلمان اور ہمدرد اسلام ہونے کی قلعی کھولنے کے لئے ۷ ار ستمبر ۱۹۰۶ء کو ایک کھلی چٹھی میں یہ راز کھولا کہ مولوی انشاء اللہ خار اپنے تئیں تبلیغ اسلام کے شیدائی اور مسلمانوں کے حامی بتا کر اشاعت کفر کر رہے ہیں اور وہ اس طرح کہ وہ اسلام کے بدترین مخالف پادریوں مثلاً میور اور ٹسڈل وغیرہ کی دل آزار کتابوں کی محض روپیہ کے لالچ میں اصل قیمت سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کر کے کفر و الحاد کو ملک میں پھیلا رہے ہیں۔مولوی انشاء اللہ خان کی اس نازیبا حرکت کے واضح ہونے پر روزنامہ " پیسہ اخبار " (۱۵/ اکتوبر ۱۹۰۶ء) اور اخبار "زمیندار" ( یکم اکتوبر و ۶ / اکتوبر ۱۹۰۶ء) نے مولوی انشاء اللہ خاں پر سخت تنقید کی۔اس کے چند دن بعد الہ آباد کے نامی علماء محمد بشیر صاحب، سید محمد عبد السلام صاحب سید محمد صاحب، عبد الوہاب صاحب ابو محمد عبد الحق صاحب اور تلطف حسین صاحب نے