تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 28
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۸ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی ذلیل اور رسوا اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کا مصداق کر۔آمین ثم آمین۔یہ دعا تھی جو میں نے کی۔اس کے جواب میں یہ الہام ہوا کہ ” میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا۔• اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :۔إِنَّ الَّذِيْنَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ سَيَنَا لَهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَتِهِمْ - ضَرْبُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ ضَرْبِ النَّاسِ - إِنَّمَا أَمْرُنَا إِذَا أَرَدْنَا شَيْئًا أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ - أَتَعْجِبُ لا مَرِى إِنِّي مَعَ الْعُشَّاقِ انّى اَنَا الرَّحْمَنُ ذُو الْمَجْدِ والى - وَيَعُضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وَيُطْرَحُ بَيْنَ يَدَيَّ - جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْمَهُمْ ذِلَةٌ مَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَامِمٍ - فَاصْبِرْ حَتَّى يَأْتِرَ اللهُ بِأَمْرِ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ - یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ ان دو نو فریق میں سے جن کا ذکر اس اشتہار میں ہے یعنی یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مولوی ابوالحسن تبتی دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں ان میں سے جو کاذب ہے وہ ذلیل ہو گا۔یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے اس لئے حق کے طالبوں کے لئے کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔" یہ تیرہ مینے خدا تعالٰی کے الہام سے معلوم ہوئے ہیں یعنی سال میں ایک ماہ اور زیادہ ہے۔منہ ہاتھ کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام زیادہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے اور افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔منہ جعفر زٹلی کا اشتہار اور حضور کی جماعت کو نصیحت اشتہار پر جعفرز ٹلی نے " ۳۰ / نومبر ۱۸۹۸ء کو پھر مرصع گالیوں کا ایک اور اشتہار دے دیا اور حضور کی پیشگوئیوں کی تکذیب کرتے ہوئے اپنے دل کا خوب غبار نکالا لیکن ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء سے چونکہ فریقین کے صدق و کذب کا فیصلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اس لئے حضور نے بھی ۳۰ / نومبر ۱۸۹۸ء کو ایک رسالہ " راز حقیقت " شائع کر کے اپنی جماعت کو نہایت اعلیٰ درجہ کی نصیحت فرمائی کہ وہ طریق تقوی پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی کے مقابلہ پر یادہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلہ میں گالیاں نہ دیں۔وہ بہت کچھ ٹھٹھا اور ہنسی سنیں گے جیسا کہ وہ سن رہے ہیں مگر چاہیے کہ خاموش رہیں اور تقویٰ اور نیک بختی کے ساتھ خد اتعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ اور صبر کو ہاتھ سے نہ دیں۔اب اس عدالت کے سامنے مسل مقدمہ ہے جو کسی کی رعایت نہیں کرتی اور گستاخی کے طریقوں کو پسند نہیں کرتی۔جب تک انسان عدالت کے کمرہ سے باہر ہے اگر چہ اس کی بدی کا بھی مواخذہ ہے مگر اس شخص کے جرم کا مواخذہ بہت سخت ہے جو عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر بطور گستاخی ارتکاب جرم کرتا ہے۔اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ