تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 27 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 27

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۷ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکای دعوت مباہلہ کا اشتہار دیا کہ آؤ اور مرد میدان بن کر مباہلہ کرو۔اس ضمن میں لکھا کہ ان کو اختیار ہوگا که اخیر نومبر ۱۸۹۸ء تک اپنی منظوری سے اطلاع دیں۔ان کی طرف سے اطلاع ملنے پر تین ہفتہ کے اندر پوری انعامی رقم انجمن حمایت اسلام یا اگر وہ چاہیں بنگال بنک میں جمع کرا دی جائے گی۔روپیہ جمع کرا دینے کے ایک ہفتہ کے اندر تاریخ مقررہ میں بمقام بٹالہ غیر مشروط میبالمہ ہو گا اور مباہلہ میں کامیابی کی صورت میں یہ انعامی رقم بلا تامل ان کے حوالہ کر دی جائے گی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کار و عمل اس اشتہار اور دعوت کا کوئی معقول جواب دینے کی بجائے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سخت کلامی پر اتر آئے اور انہوں نے ابوالحسن صاحب تبتی اور ملا محمد بخش صاحب جعفر زٹلی کی طرف سے ایک گندہ اشتہار دیا جس میں حضور کو گالیاں دی گئی تھیں۔حضور کو جب یہ گالیوں سے بھرا ہوا اشتہار ملا تو حضور اقدس نے ۲۱/ نومبر خدائی فیصلے کا اعلان ۱۸۹۸ء کو مندرجہ ذیل اشتہار دیا۔اس وقت وہ اشتہار میرے سامنے رکھا ہے اور میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ اے میرے ذوالجلال پر وردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی۔نے اس اشتہار میں جو ۱۰/ نومبر ۱۸۹۸ء کو چھپا ہے میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔تو اے میرے مولا میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی پندرہ دسمبر ۱۸۹۸ء سے پندرہ جنوری ۱۹۰۰ ء تک ذلت کی ماروارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز کے جھگڑے کو فیصلہ فرما۔لیکن اگر اے میرے آقا میرے مولی میرے منعم میری ان نعمتوں کو دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں تیری بناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں ان تیرہ مہینوں میں جو پندرہ دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵/ جنوری ۱۹۰۰ ء تک شمار کئے جائیں گے۔شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مثبتی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں بچے اور متقی اور پرہیز گار ہیں اور میں کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں * میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما۔ان تینوں کو