تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 396 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 396

اریخ احمد بہت جلد ۲ ۳۹۳ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ جماعت کے بڑے لوگوں سے ملایا۔نواب محمد علی مالیر کوٹلہ کے بھی وہیں تھے۔جمعہ کی نماز د ہیں ایک میدان میں ہوئی۔میں گیا تو لوگوں نے مجھے پہلی صف میں جگہ دی۔اتنے میں مرزا صاحب آئے اور منبر کے جنب میں امام کے مصلے پر بیٹھ گئے۔اس وقت مولوی عبدالکریم مرحوم نے خطبہ دیا۔خطبے کا موضوع یہ تھا کہ بہت سی برکتیں انبیائے سلف میں نہیں آئیں۔ان سے خدا نے مرزا صاحب کو سرفراز فرمایا۔ازاں جملہ یہ کہ اعلان و تبلیغ رسالت کے یہ وسائل ان انبیاء کے زمانے میں کہاں تھے۔ریل، تار، ڈاک گریموفون ، اخبارات پریس ان وسائل سے کس طرح پر صدا مشرق و مغرب میں پھیلائی جا سکتی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔نماز بھی مولوی عبد الکریم نے پڑھائی اور مرزا صاحب صف سے آگے مگر ان سے دو انچ پیچھے تنا کھڑے رہے۔نماز کے بعد پھر میری طرف ملتفت ہوئے اور اصرار کیا کہ میں چند دن قیام کروں۔میں نے معذرت کی اور اسی دن روانگی کا ارادہ ظاہر کیا۔میرا مقصود اس سفر سے صرف وہاں کا طور طریقہ دیکھ لینے کا تھا تا کہ معلومات سے باہر یہ معاملہ باقی نہ رہے۔اس سے زیادہ کوئی خواہش نہ تھی۔وہاں یہ کوشش تھی کہ میں کوئی معین خیال بھی ظاہر کروں۔مرزا صاحب نے کئی باتیں اپنے دعاوی اور منصب کی نسبت ایسی کہیں جو سامع کو نیا یا اثباتا کسی جانب پر مجبور کرنے والی تھیں لیکن میں خاموش رہا۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میری تمام کتابیں تم نے دیکھی ہیں؟ جو رسائل دیکھے ان کا ذکر کیا۔اس پر انہوں نے چند کتابیں مجھے دینے کے لئے مولوی محمد صادق ایڈیٹر ” بدر" سے کہا جو اس صحبت کے نوٹ لے رہے تھے انہوں نے وفات مسیح کا بھی ذکر چھیڑا اور کہا کہ یہی مسئلہ ہے جس کے اعلان نے کسر صلیب کی خبر پوری کر دی۔اس پر میں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ سے پہلے بعض مفسرین مثلا صاحب اسرار الغیب اور اس عہد میں مولوی چراغ علی اور سرسید اس کا بڑے زور شور سے اعلان کر چکے ہیں۔یہ بات ان پر گراں گزری۔انہوں نے کہا چراغ علی اور سرسید نے جو کچھ کہا وہ صرف مادی رنگ میں تھا اور میں نے اسے روحانی رنگ میں ثابت کیا۔یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی لیکن میں بحث کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ اس طرح کا کوئی جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا۔میرے خیالات اس وقت سرسید کی تقلید پر مبنی تھے اس لئے ان کے مشن سے مجھے کوئی دلچسپی نہ تھی۔اس کے بعد کچھ دیر تک مولوی نور الدین مرحوم اور بعض دیگر وہاں کے اہلیان سے میں ملا۔واپسی میں نواب محمد علی نے اپنی رتھ بٹالے تک کے لئے دے دی جو کچی سڑک پر بہت آرام دیتی ہے اور واپسی میں مجھے اس سے بہت آرام رہا۔" MA