تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 397
۳۹۴ " آه نادر شاہ کہاں گیا" زلازلی کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز ۵ ر مئی ۱۹۰۵ء کو حضرت مسیح موعود کو ایک رویا میں یہ الفاظ لکھے ہوئے دکھلائے گئے۔" آہ نادر شاہ کہاں گیا " یہ مختصر الفاظ اپنے اندر افغانستان کی حکومت کے متعلق ایک زبر دست انقلاب کی پیشگوئی پر مشتمل تھے جو ۸ / نومبر ۱۹۳۳ء کو پوری شان سے پوری ہوئی۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ۱۹۲۹ء میں جب امیر امان اللہ خاں صاحب (ولادت ۱۸۹۲ء) والی افغانستان کی حکومت کا تختہ حبیب اللہ خاں صاحب نے الٹ دیا تو افغانوں نے نادر خاں صاحب (۶۱۸۸۰-۱۹۳۳ء) کو فرانس سے بلوا کر تخت حکومت ان کے سپرد کر دیا۔اس دن سے نادر خاں صاحب نے اپنے خاندانی اور ملکی لقب " خان" کو چھوڑ کر شاہ " کا لقب اختیار کیا اور نادر شاہ کہلانے لگے جو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق ایک غیر معمولی تغیر تھا۔EI اس کے تین سال بعد ۱۸/ نومبر ۱۹۳۳ء کو عین دن کے وقت نادر شاہ کو عبد الخالق نامی ایک شخص کے ذریعہ سے مجمع عام میں قتل کر دیا گیا۔اس طرح نادر شاہ صاحب کی بے وقت اور اچانک موت سے اہل عالم پکار اٹھے " آہ نادر شاہ کہاں گیا۔"