تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 395 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 395

احمدیت جلد ۲ ۳۹۲ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز tt دعاوی اور بعض رسالے دیکھ چکا تھا۔طبیعت میں ہر نئی بات کے تنجس اور واقفیت کا شوق تھا ہی۔خیال ہوا کہ انہیں بھی دیکھنا چاہیے۔چنانچہ بٹالہ گیا اور وہاں سے قادیان روانہ ہوا۔سخت گرمی شروع ہو چکی تھی اور سڑک بالکل کچھی تھی بڑی تکلیف ہوئی۔وہاں پہنچا تو تھے کے باہر ہی ایک باغ میں اتارا گیا معلوم ہوا کہ مرزا صاحب اور ان کے وابستہ اشخاص میں مقیم ہیں۔اس سال مشہور کانگڑے کا زلزلہ آیا تھا اور اس کے بعد عرصے تک کچھ کچھ وقفے کے بعد زلزلوں کا ظہور ہو تا رہا تھا۔یہ زیادہ نقصان رساں نہ تھے لیکن آئندہ کے لئے کھٹکا پیدا ہو گیا تھا۔زلزلے ہی کی وجہ سے مرزا صاحب عمارات چھوڑ کر باغ میں آگئے تھے۔شام کو مغرب کے بعد پہنچا۔یکے والا مرزا صاحب کا مرید تھا اس لئے وہ ٹھیک منزل مقصود پر لے گیا۔انجمن کے جلسے میں قادیان کے کئی شخصوں سے ملاقات ہو گئی تھی۔انہی میں مولوی یعقوب علی ایڈیٹر " الحکم بھی تھے۔انہوں نے حسب عادت بہت اصرار کیا تھا کہ میں قادیان جاؤں۔اور وعدہ لیا تھا کہ روانگی سے پہلے اطلاع دے دیتا لیکن میں نے کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ایک درخت کے نیچے چارپائی پر مولوی عبد الکریم مرحوم بیٹھے تھے۔میں نے ان کو بیساکھی سے جو پاس پڑی تھی پہچان لیا کہ مولوی عبد الکریم ہی ہیں کیونکہ میں پہلے سن چکا تھا۔ان کے بعض عزیز والد مرحوم کے مرید تھے اور کلکتے میں ذکر کیا کرتے تھے میں ان سے ملا اور اپنے آنے کا مقصد مرزا صاحب کی ملاقات بتایا۔وہ بڑے اخلاق سے ملے اور فور الوگوں سے کہا کہ میرے لئے کھانا لے آئیں۔اور کہا کہ اکرام نیف" تو ہمارا فرض ہے۔میں یکے کے سفر اور کچی سڑک کی وجہ سے ہچکولوں سے بالکل چور ہو رہا تھا۔عشاء کی نماز مولوی عبد الکریم صاحب کے پیچھے پڑھ کے ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا اور صبح کو چار بجے اٹھا تو نماز کے چبوترے پر لوگوں کو نماز صبح کے لئے تیار پایا اور اس سے طبیعت متاثر ہوئی۔نماز کے بعد مرزا صاحب باہر نکلے اور ایک چارپائی پر بیٹھ گئے۔معتقدین نے ہر طرف سے ہجوم کیا۔بعض لوگ پاؤں دبانے لگے۔انہوں نے مولوی نورالدین مرحوم کو بلایا۔میں ان کا نام مرزا صاحب کی جماعت کے ایک خاص کارکن کی حیثیت سے سن چکا تھا۔وہ خضاب حنا کی وجہ سے ڈھاٹا باندھے آئے اور مرزا صاحب نے شب گزشتہ کے تازہ الہامات سنانا شروع کئے۔ایک الہام یہ تھا۔"إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مولوی نور الدین مرحوم سے وہ پوچھتے تھے کہ اس کا مقصد کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔اس پر یاد نہیں کہ مولوی صاحب نے کیا جواب دیا۔پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور میرے حالات پوچھتے رہے اور کہا کہ جب آپ آئے ہیں تو کم سے کم چالیس دن تک ضرور رہیے۔اس طرح آنے سے اور جلد چلے جانے سے تو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد مرزا صاحب اندر چلے گئے اور مولوی عبد الکریم مرحوم نے مجھے پھر مولانا نور الدین صاحب مرحوم اور