تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 381 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 381

اریخ احمدیت جلد ۲ نازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز پڑھے بغیر سرہانے تلے رکھ دیا۔صبح کو انہوں نے اسے پڑھنا شروع کیا۔پنڈت صاحب یہ خط ابھی پڑھ ہی رہے تھے یا پڑھ چکے تھے کہ زلزلہ آگیا اور وہ خط پڑھتے پڑھتے اپنے مکان سے باہر نکل آئے اور حضور کے خط کی برکت سے اس کی جان بچ گئی۔اس سے عجیب تر واقعه خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔حضور ۴/ اپریل ۱۹۰۵ء کی صبح کو "نصرة الحق" یعنی " براہین احمدیہ حصہ پنجم " کا مسودہ لکھ رہے تھے اس دوران میں جب حضور اس الہام تک پہنچے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔" حضور یہ الفاظ لکھ کر اس کے پورا ہونے کا ثبوت درج کرنے کو تھے کہ زلزلہ آگیا۔" حضرت مسیح موعود کی طرف سے اشتہار "الدعوت" حضور نے دوسرے ہی روز (۵ / اپریل ۱۹۰۵ء کو) الدعوت" کے نام سے ایک اشتہار دیا جس میں حضور نے دعوت و تبلیغ کرتے اور اس نشان کی طرف اہل ملک کو توجہ دلاتے ہوئے اتمام حجت فرمائی اور لکھا ” عزیز و شرم اور حیا کرو کہ خدا کے دن آگئے اور آسمان تمہیں وہ کرشمے دکھا رہا ہے جن کی تمہارے آباء و اجداد کو خبر نہ تھی مبارک وہ جو میرے بارے میں ٹھو کر نہ کھا دیں"۔قادیان۔دھر مسالہ اور دوسری احمدی جماعتوں کی خدائی حفاظت الہامات میں حضور کے مخلص خدام کی زلزلہ کے نقصانات سے بچاؤ کی واضح خبر دی گئی تھی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔گو قادیان میں یہ زلزلہ تین منٹ تک پورا زور سے رہا۔یہاں اس کا جھٹکا پہلے شرقا غربا اور پھر شمالاً جنوبا محسوس ہوا۔اس کے بعد دن کے مختلف اوقات میں زلزلہ محسوس ہو تا رہا۔مگر خدا کے فضل سے حضور یا سلسلہ عالیہ کے مکانات وغیرہ کو کوئی خفیف سا نقصان بھی اس سے نہیں ہوا۔علاوہ ازیں دھرم سالہ کی احمد یہ جماعت بار جو دیکہ زلزلہ کے مرکز میں ہونے کے براہ راست زد میں تھی معجزانہ طور پر بالکل محفوظ رہی۔بعض اور احمدی دوست بھی جو عارضی طور پر پالم پور گئے تھے۔وہ بھی بچ گئے۔یہی نہیں ضلع کانگڑہ کے بھی احمدی افراد بالکل صحیح و سالم رہے مکرم ماسٹر عطاء محمد صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ ربوہ کا بیان ہے کہ " میرے محترم چچا حضرت مولوی وزیر الدین صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابہ میں سے تھے وہ سبحان پور ٹیرہ ضلع کانگڑہ کے ور نیکٹر مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ان کے اہل وعیال میریاں