تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 382 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 382

احمدیت۔جلد ۲ ۳۷۹ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز ضلع ہوشیار پور میں مقیم تھے اور میں چا میاں کے ساتھ سبحان پور ٹیرہ میں رہتا تھا۔۱۹۰۵ء کے غالبا فروری یا مارچ کے مہینہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اشتہار بعنوان عفت الديار محلها و مقامها " چچا جان کو موصول ہوا جو دیواروں پر چسپاں کرنے کے لئے انہوں نے میرے سپرد کر دیا۔میں سکول کے گیٹ اور دکانوں کی دیواروں پر یہ اشتہار چسپاں کر رہا تھا کہ وہاں ایک سادہ کار (ستار) حسن دین نام میرے پاس سے گزرا اور اشتہار دیکھ کر کہنے لگا کہ مرزائیوں کی صف لپیٹی جائے گی۔یہ سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکلا کہ احمدیوں کو تو نہیں البتہ تمہاری صف لیٹنے کا وقت آگیا ہے۔وہ تو چلا گیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔۳/ اپریل ۱۹۰۵ء کو شام کو دو احمدی بابو محمد اسمعیل صاحب پوسٹ ماسٹر اور منشی امام دین صاحب لمبا گاؤں ضلع کانگڑہ جو سبحان پور کے قریب ہی ہے۔اور ایک اور غیر احمدی صاحب جو زیر تبلیغ تھے ہمارے ہاں مہمان تھے اور ہم سب کی دعوت ایک صاحب کریم بخش صاحب رنگریز نے کر رکھی تھی۔صبح کا گندھا ہوا آنا جو بچا ہوا تھا اسی طرح رکھا رہا اور اس کے پکانے کی نوبت نہ آئی۔دعوت کھا کر رات دیر سے گھر آئے اور آتے ہی سو گئے۔جس مکان میں محترم چچا جان رہتے تھے وہ سکول سے ملحقہ زمین میں بنا ہوا تھا۔سکول کی عمارت دو منزلہ تھی۔مچلی منزل سکول کے طور پر کام آتی تھی اور اوپر کی منزل بطور بورڈنگ ہاؤس۔اس مکان میں میرے اور میرے چچا جان کے علاوہ تین مذکورہ بالا مہمان تھے۔۱/۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو عین طلوع آفتاب کے وقت وہ قیامت خیز زلزلہ آیا جس سے ضلع بھر کی بستیاں اور شہرتہ و بالا ہو گئے۔دریائے بیاس میں جو سبحان پور شیرہ شہر کے بالکل قریب بہتا تھا پہاڑ کی چوٹی کرنے سے بند لگ گیا اور پانی پہاڑ کی ترائی پر بنے ہوئے مکانوں اور انسانوں کی تباہی کا موجب ہوا۔ڈاک اور تار کا سلسلہ یکسر منقطع ہو گیا۔ہمارے مکان اور سکول کی بنیادیں تک اکھڑ گئیں اور شہر میں اس قدر تباہی مچی کہ دن چڑھتے ہی کہرام مچ گیا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے گھر میں جس قدر افراد تھے سب کے سب معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔بورڈنگ ہاؤس کے بعض طالب علموں کی چارپائیاں نیچے سڑک یا گلی میں گر پڑیں ایسی حالت میں کہ لڑکا چارپائی پر پڑا ہے اور اس کی چارپائی پرو تر کی صورت میں ایک کڑی پڑی ہے جس کے نیچے بچہ بالکل محفوظ ہے۔نہ صرف یہ بلکہ سکول میں جتنے ماسٹر صاحبان پڑھاتے تھے اور جس قدر طالب علم سکول میں پڑھتے تھے سب کے سب اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے محفوظ رہے اور کسی کو خراش تک بھی نہ آئی سوائے ایک ماسٹر دلیپ سنگھ صاحب کے جو نئے نئے آئے تھے اور انہوں نے ابھی چارج بھی نہ لیا تھا زلزلہ میں صرف ان کو چند معمولی چوٹیں آئیں۔اس کے برخلاف وہ حسن دین جو کہتا تھا کہ مرزائیوں کی صنف پیٹی جائے گی اس کے اپنے خاندان کے بیس کے قریب افراد تھے جن میں سے ایک