تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 380 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 380

اریخ احمدیت جلد ۲ زلازل کے غیر معمولی سلسلہ کا آغاز ۴۔اپریل ۱۹۰۵ء کو کانگڑہ میں قیامت خیز زلزلہ این ابھی شروں پر تھوڑا عرصہ گزرا الہی - تھا کہ یکا یک ۴ - اپریل ۱۹۰۵ء کو خدائی تقدیر اور اس کے فیصلہ کے مطابق کانگڑہ کی آتش فشاں اور خاموش پہاڑی جو بالکل بے ضرر سمجھی جاتی تھی اور جس کے متعلق علم طبقات الارض کے ماہرین کا خیال تھا کہ اس سے کسی تباہی کا خطرہ نہیں جنبش میں آگئی اور ۴۔اپریل ۱۹۰۵ء کو صبح چھ بجے کانگڑہ اور اس کے ارد گرد سینکڑوں میل تک کی زمین میں زبر دست زلزلہ آ گیا جس سے کانگڑہ کا " دیوی " نامی قیمتی مندر جو دو ہزار سال سے موجود تھا بالکل نابود ہو گیا۔دھر مسالہ کی چھاؤنی کی بیرکوں اور انگریزوں کی عالی شان کو ٹھیوں کی اینٹ سے اینٹ بچ گئی۔ڈلہوزی اور کلوہ کی چھاؤنیوں کی عمارتیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں اور دیگر شہروں مثلاً شملہ مسوری - ڈیرہ دون - امرتسر دہلی - گوجرانوالہ کیتھل کرنال- جموں اور لاہور وغیرہ کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ہزاروں آدمی اس زلزلہ میں ہلاک ہوئے۔اس زمانے کے اخبارات و رسائل میں اس زلزلہ کی جو تفصیلات ملتی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قمرالی قیامت کا نمونہ تھا۔چنانچہ اخبار "بھارت" نے لکھا۔"ہم۔اپریل کی صبح ہندوستان اور دنیا کے بعض حصوں کو نہیں بھولے گی۔وہ قیامت کا سماں وہ ہولناک سین جب آنکھوں کے آگے آجاتا ہے تو جان ہوا ہو جاتی ہے۔باپ نے بیٹا نہیں سنبھالا۔عورت نے خاوند کی پرواہ نہیں کی۔اخبار ” اہلحدیث " نے لکھا۔۴۔اپریل کو سورج کے نکلتے ہی قیامت کا نمونہ قائم ہوا"۔اخبار "زمیندار" نے لکھا۔۔اپریل کا زلزلہ اس خوفناک منظر کی شہادت دے رہا ہے جو قرب قیامت کی آئندہ خوفناک نشانیوں کے ظاہر ہونے پر دنیا کو دیکھنا ہو گا۔" پبلک میگزین نے لکھا اب ایک ایسے بھونچال سے ملک کو مقابلہ کرنا پڑا ہے کہ جس نے ہزاروں جانوں کو قتل اور زخمی کرنے کے علاوہ کروڑوں اربوں کی جائید ادتباہ کر دی ہے "۔اخبار "وکیل" نے لکھا ” یہ زلزلہ اس قدر ہولناک اور صہیب تھا کہ اسے قیامت صغری کہنا کچھ مبالغہ نہ ہوگا بلکہ جس وقت وہ اپنی پوری شدت پر خدائے قہار کا جلال ظاہر کر رہا تھا۔اس وقت تو لوگوں کو عموما یہیں یقین آ گیا تھا کہ بس قیامت آہی گئی۔" دو عجیب خدائی تصرفات دھرم سالہ میں ڈسٹرکٹ بورڈ کے ہیڈ کلرک ایک ہندو دوست پنڈت مولا رام ہوتے تھے ان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خط و کتابت تھی۔۳/ اپریل ۱۹۰۵ء کو یعنی زلزلہ آنے سے صرف ایک دن قبل ان کو حضور کا ایک خط پہنچا جس میں حضور نے لکھا تھا کہ خدا کا عذاب آسمان پر بھڑک رہا ہے اور اس کا عذاب سالوں میں نہیں مہینوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں زمین پر نازل ہونے والا ہے۔پنڈت صاحب نے شام کو یہ خط