تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 371 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 371

تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ۳۶۸ سفر سیالکوٹ ہی محبت ہے جیسا کہ قادیان سے۔کیونکہ میں اپنے اوائل زمانہ کی عمر میں سے ایک حصہ اس میں گذار چکا ہوں اور اس شہر کی گلیوں میں بہت سا پھر چکا ہوں۔میرے اس زمانہ کے دوست اور مخلص اس شہر میں ایک بزرگ ہیں یعنی حکیم حسام الدین صاحب جن کو اس وقت بھی مجھ سے بہت محبت رہی ہے وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ وہ کیسا زمانہ تھا اور کیسی گمنامی کے گڑھے میں میرا وجود تھا۔اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے زمانہ میں ایسی عظیم الشان پیشگوئی کرنا کہ ایک گمنام کا آخر کار یہ عروج ہو گا کہ لاکھوں لوگ اس کے تابع اور مرید ہو جائیں گے اور فوج در فوج لوگ بیعت کریں گے اور بار جود دشمنوں کی سخت مخالفت کے رجوع خلائق میں فرق نہیں آئے گا بلکہ اس قدر لوگوں کی کثرت ہوگی کہ قریب ہو گا کہ وہ لوگ تھکا دیں کیا یہ انسان کے اختیار میں ہے اور کیا ایسی پیشگوئی کوئی مکار کر سکتا ہے کہ چو میں سال پہلے تنہائی اور بے کسی کے زمانہ میں اس عروج اور مرجع خلائق ہونے کی خبر دے۔" جلسہ کا اختتام اور فرودگاہ کو روانگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس روح پرور تقریر کے بعد حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب نے انتقامی خطاب فرمایا جس کے بعد جلسہ ختم ہو گیا لیکن لوگ کچھ ایسے اطمینان خاطر سے بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ اٹھنا ہی نہیں چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ کچھ اور سنایا جائے۔منتظمین نے نہایت عمدگی کے ساتھ راستہ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گاڑی میں سوار کرایا کیونکہ ہزاروں ہزار آدمی موجود تھے اور شوق زیارت میں ہر ایک آگے بڑھتا تھا۔حضرت اقدس کی گاڑی باہر نکل گئی تو مقامی حکام خصوصاً سردار یوسف خاں سرائے کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور تھوڑی دیر کے لئے لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی۔لوگ باہر نکل کر دوڑے تا ایک مرتبہ پھر زیارت ہو جائے۔مخالفین جو باہر اڈے جمائے ہوئے شور مچا رہے تھے کہ لوگو! کوئی اندر نہ جائے۔لیکن ایک یورپین انسپکٹر صاحب پولیس نے جو جلسہ میں آخر وقت تک موجود رہے باہر آکر مخالف واعطین سے کہا کہ ہم کو تعجب ہے کہ تم لوگ اس شخص کی مخالفت کیوں کرتے ہو۔مخالفت تو ہمیں (عیسائیوں کو) یا ہندوؤں کو کو کرنی چاہئے جن کے مذہب کی وہ تردید کر رہا ہے اسلام کو تو وہ سچا اور حقیقی مذہب ثابت کر رہا ہے ابطال تو ہمارے مذہب کا کر رہا ہے اور تم یونسی مخالفت کر رہے ہو ؟ حضرت اقدس کی گاڑی جب بازار سے مکان کو واپس آئی تو پھر وہی پہلا سا ذوق و شوق عوام میں موجزن تھا۔بیعت کرنے والوں کی کثرت چونکہ ۳/ نومبر کو حضرت اقدس کی تاریخ روانگی مقرر تھی اس لئے بیعت کرنے والوں میں جوش ارادت اتنہاء کو پہنچ