تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 368 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 368

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۶۵ سفر سیالکوٹ مکانوں کی چھتوں پر آدمی ہی آدمی تھے۔لیکچر کی تصنیف و طباعت حضور نے ۳۱/ اکتوبر کی دوپہر کے بعد لیکچر لکھا اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ۲ / نومبر کو یہ لیکچر چھپ بھی گیا۔اس طرح لیکچر کی تیاری میں صرف ایک ہی دن صرف ہوا۔لیکچر کے متعلق حکیم حسام الدین صاحب چوہدری محمد سلطان صاحب میونسپل کمشنر ، آغا محمد باقر خاں صاحب آنریری مجسٹریٹ ، چوہدری نصر اللہ خاں صاحب پلیڈر چوہدری محمد امین صاحب پلیڈر کی طرف سے ایک اشتہار بھی شائع کیا گیا جس کا عنوان تھا ” حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود کا لیکچر اسلام پر " اور اس میں پبلک کو اطلاع دی گئی تھی کہ "یہ لیکچر ۲ نومبر ۱۹۰۴ء کو بدھ کے دن صبح سات بجے بمقام سیالکوٹ سرائے مہاراجہ صاحب بہادر والی جموں و کشمیر سنایا جائے گا۔مولوی عبد الکریم صاحب اس لیکچر کو پڑھ کر سنا ئیں گے اور حضرت میرزا صاحب خود بھی تشریف فرما ہوں گے سامعین کو چاہیے کہ ٹھیک وقت پر تشریف لاویں۔کسی صاحب کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی۔نہایت متانت اور خاموشی سے لیکچر کو سنتا ہو گا۔" لیکچر گاہ کی تیاری اور مخالفین کی لیکچر یکم نومبر کی شام کو لیکچر گاہ (یعنی مہاراجہ جموں و میں جانے سے روکنے کی کوششیں کشمیر کی وسیع سرائے متصل ریلوے اسٹیشن سیالکوٹ میں شامیانوں کا انتظام کیا گیا اور دریوں کا فرش بچھایا گیا۔اور کرسیاں رکھی گئیں۔در اصل لیکچر کے لئے پہلے اسی محلہ میں جہاں حضور فروکش تھے ایک خالی میدان تجویز ہوا تھا مگر وہ ناکافی تھا۔اس لئے سب سامان وہاں سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لے جایا گیا اور لیکچر گاہ راتوں رات تمام ضروری سامان سے آراستہ کر دی گئی۔لوگوں کو جگہ نہ ملنے کا اس قدر خیال تھا کہ بہت سے لوگ تو رات ہی کو وہاں سوئے اور اکثر علی الصبح اٹھ کر فجر کی نماز سے بھی پہلے وہاں جا پہنچے۔دوسری طرف مخالف علماء نے لوگوں کو لیکچر میں شامل ہونے سے روکنے کی یہ صورت کی کہ ۲/ نومبر کی صبح کو چھ بجے سے یعنی حضور کے لیکچر سے ایک گھنٹہ قبل ہی شہر کے چار مختلف مقامات پر مجالس وعظ شروع کر دیں اور قبل از وقت ان مجالس کا اعلان بھی بذریعہ اشتہار کر دیا۔اس منصوبے کا اثر بالکل الٹا پڑا اور سوائے بعض متعصب مخالفوں کے جو علماء کی تقریروں میں بیٹھے رہے سیالکوٹ کے عوام اس طرح جوق در جوق لیکچر گاہ میں پہنچے کہ خدائی تائید و نصرت کا ایک ایمان افروز منظر آنکھوں کے سامنے آگیا۔•