تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 369
تاریخ احمدیت جلد ؟ سفر سیا لکوٹ حضور کی جلسہ گاہ کو روانگی حضرت اقدس" قریباً ساڑھے چھ بجے اپنے ایوان سے بیچے اترے ملاقات کرنے والے ایک دوسرے پر گرے پڑتے دبھی تھے۔آخر یہ انتظام کیا گیا کہ مصافحہ کرنے والوں کو روک دیا جاوے۔حضور ابھی مکان سے اترے نہیں تھے کہ ایک شخص نیاز علی نام نے میر حکیم حسام الدین صاحب کے توسط سے نہایت مجز و الحاح سے عرض کیا کہ حضور جب جلسہ گاہ کو تشریف لے چلیں تو میرے گھر میں قدم ضرور رکھ دیں تاکہ آپ کا مبارک قدم میرے گھر میں برکات کا موجب ہو یہ حسن ارادت و عقیدت حضرت کو اس کے گھر لے گیا اور حضور دو تین منٹ تک اس کے گھر کو اپنے قدموں سے برکت دے کر تشریف لائے اور دو گھوڑوں والی گاڑی میں تشریف فرما ہوئے، حضور کے ہمراہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب تھے۔بازار میں گاڑیوں کا اچھا خاصہ سلسلہ تھا قریباً پندرہ سولہ گاڑیاں یکے بعد دیگرے کھڑی تھیں۔سردار محمد یوسف صاحب سٹی مجسٹریٹ خاص اس انتظام کے لئے متعین تھے۔وہ ابتدائے لیکچر سے اخیر تک جلسہ گاہ میں برابر کھڑے رہے۔پولیس نے اس موقعہ پر قیام امن کا پورا اہتمام کیا تھا۔چنانچہ انسپکٹر صاحب پولیس بھی حضور کی گاڑی کے ساتھ تھے۔یہ بھی بڑا عجیب نظارہ تھا جب کہ خدا کا مسیح ہزاروں انسانوں کے درمیان گاڑی میں بیٹھا جارہا تھا اور اس کے راستہ کے تمام درو دیوار اور کوٹھے زن و مرد سے لدے ہوئے اس کا دیدار کر رہے تھے۔دو رو یہ انسانوں کی سڑک میں جب یہ جلوس گزرا تو لوگ بھی گاڑی کے ساتھ بھاگے جاتے تھے اور ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔رستہ میں مخالفوں کے اڈوں میں جو وعظ ہو رہا تھا اس میں گالیوں کے علاوہ دوسری آواز یہ سنائی دیتی تھی کہ خبردار کوئی سرائے میں نہ جاوے۔یہ شور مچانے والوں کی رگیں پھول پھول جاتیں تھیں مگر لوگ تھے کہ برابر دو ڑے چلے جاتے تھے۔الغرض حضرت اقدس کا جلوس اسی شان سے گزرتا ہو ا بالاخر حضرت اقدس جلسہ گاہ میں بکھیر گاہ تک پنچا جہاں شہر کے ہرنہ ہب وملت کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں آپ کے لئے چشم براہ تھے۔حضور جب جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو لوگوں میں ایک عجیب اضطراب اور کشمکش پیدا ہو گئی۔ہر شخص اس کوشش میں تھا کہ میں ایسی جگہ بیٹھوں جہاں سے خدائے تعالی کے برگزیدہ مامور اور معزز لیکچر پڑھنے والے کو دیکھ سکوں۔شامیانوں کے نیچے دریوں کا فرش تھا جس کے تین طرف معززین شہر کے لئے کرسیاں بچھی تھیں۔اور حضور کی کرسی لکڑی کے ایک پلیٹ فارم پر تھی جہاں سے لوگ اطمینان سے زیارت کر سکتے تھے حضور اس وقت سرخ جبہ میں جلوہ افروز تھے۔حضور کا نورانی اور خدا نما چہرہ غض بصر کا عملی سبق دینے والی آنکھیں سامعین کو اپنی طرف