تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 357 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 357

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ ۳۵۴ ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پیشگوئی میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر جو جھوٹوں پر لعنت کرتا ہے یہ گواہی دیتا ہوں کہ جو کچھ میں نے دعوئی کیا ہے یا جو کچھ اپنے دعوئی کی تائید میں لکھا ہے یا جو میں نے الہام الہی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں وہ سب صحیح ہے سچ ہے اور درست ہے۔والسلام علی من اتبع الهدی الراقم خاکسار مرزا غلام احمد (مهر) واپسی حضرت اقدس نے لاہور میں ۲۰/ اگست ۱۹۰۴ء سے ۱۳ ستمبر ۱۹۰۴ء تک قیام فرمایا ۵ / ستمبر کو چونکہ مقدمہ کرم الدین کے سلسلہ میں گورداسپور کی عدالت میں پیشی تھی اس لئے حضور ہم / ستمبر کو لاہور سے روانہ ہو کر گورداسپور تشریف لے گئے۔بہائی مبلغ حکیم میرزا محمود صاحب زرقانی اور بہائی دنیا پر اتمام حجت بابی و بهائی تحریک ایک ایرانی سید علی محمد باب (۶۱۸۱۹ تا ۱۸۵۰ء) نے جو شیعوں کے فرقہ شیخیہ کا ایک فرد تھا۔۲۳ / مئی ۱۸۴۴ء کو دعوی کیا کہ میں امام مہدی کا باب یعنی دروازہ ہوں۔اور تعلیم دینی شروع کی کہ گردنیں اڑا دی جائیں۔کتابیں اور اوراق جلا دئیے جائیں۔مقامات منہدم کر دئیے جائیں اور ایمان لانے اور تصدیق کرنے والوں کے سوا قتل عام کر دیا جائے۔باب کی تعلیم کے نتیجہ میں ملک میں بدامنی اور انتشار پیدا ہو گیا جس پر حکومت ایران نے قیام امن کی خاطر اس پر بعض پابندیاں عائد کر دیں۔باب نے ۱۳/ ستمبر ۱۸۴۷ء کو مسجد میں علماء کے مطالبہ کے مطابق اپنے دعویٰ سے تو بہ کا اعلان کیا۔اور علماء کی دست بوسی کی نیز ناصرالدین شاہ ایران کو تحریری تو به نامه ارسال کیا مگر خود باب کے معقدوں نے حکومت کے خلاف شدت سے ٹکر لینا شروع کر دی۔حکومت نے بالا خرباب کو ماکو میں نظر بند کر دیا۔بابی یہ صورت حال دیکھ کر صحرائے بدشت میں جمع ہوئے اور انہوں نے ایک تو ماکو میں پہنچ کر باب کو بزور رہا کرنے کا فیصلہ کیا دوسرے تجویز کی کہ اسلامی شریعت کی تنسیخ کا اعلان کر دیا جائے۔چنانچہ کتاب "اقتدار" میں لکھا ہے کہ "اگر اعتراض و اعراض اہل فرقان نبود هر آئینہ شریعت فرقان در این ظهور رخ نمے شود۔" یعنی اگر اہل اسلام باب سے اعتراض و اعراض نہ کرتے تو اسلامی شریعت ہرگز منسوخ نہ کی جاتی۔قرآن مجید کی تنسیخ کے اعلان کے بعد سید علی محمد باب نے قلعہ ماکو میں ایک نئی شریعت لکھنی شروع کر دی۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی شریعت کو انیس حصوں پر تقسیم کرے گا اور ہر حصے میں انیس باب لکھے گا۔مگر بھی اس نے صرف آٹھ حصے ہی مکمل کئے تھے کہ حکومت ایران نے ۹/ جولائی