تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 358 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 358

تاریخ احمد ۳۵۵ " ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پیشگوئی ۱۸۵۰ء کو علماء کے فتوئی اور سیاسی حالات کے تحت باب کو تبریز کے میدان میں گولی سے اڑا دیا۔سید علی محمد باب کی ناکام موت کے کافی عرصہ بعد اس کے پیروؤں میں سے ایک شخص میرزا حسین علی (المعروف بہاء اللہ ۱۸۱۷ - ۱۸۹۲) نے ایک نئی شریعت اختراع کی جو کتاب اقدس میں درج ہے۔اقدس کی اشاعت نہ بہاء اللہ کے وقت میں ہوئی اور نہ اس کے بعد آج تک بہائیوں نے اپنی ذمہ داری پر اسے شائع کیا ہے بلکہ بہاء اللہ کے بیٹے عبد البہاء نے اقدس " کی اشاعت کی ممانعت کرتے ہوئے یہ ہدایت بھی دی کہ "کتاب اقدس اگر طبع شود - نشر خواهد شد در دست اراذل متعصین خواهد افتاد و لهذا جائز نہ یعنی کتاب اترس اگر چھپ گئی تو پھیل جائے گی اور کمینے متعصب لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اس لئے اس کا چھوانا جائز نہیں۔بابی اور بہائی تحریک کے میرزا محمود زرقانی کی خلاف عقل و فہم دعوت مباحثہ مختصر تعارف کے بعد اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن دنوں لاہور تشریف لائے لاہور میں ایک بہائی مبلغ میرزا محمود صاحب زرقانی بھی آئے ہوئے تھے۔یہ صاحب ایک ہفتہ تک بالکل خاموش رہے مگر جب (گورداسپور کی عدالتی کارروائی میں شامل ہونے کے لئے) حضور کی روانگی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے بہاء اللہ کو مدعی مسیحیت کے طور پیش کر کے حضور کو دعوت مباحثہ دے دی۔ضمناً یہ بتا نامناسب ہو گا کہ مباحثہ کی یہ دعوت سراسر خلاف عقل و فہم تھی۔بہاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابل میدان مسیحیت میں پیش ہی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ (1) وہ ایک ایسے شخص کے مہدی ہونے کا عقیدہ رکھتا تھا جس کا جھوٹا اور مفتری ہونا واقعات نے ثابت کر دکھایا (۲) وہ مسیح الاسلام نہیں تھا بلکہ ناسخ الاسلام تھا۔حالانکہ خود بہائیوں نے یہ حدیث پیش کی ہے کہ یقیمُ الدِّين و يُنفِعُ الروحَ فِي الْإِسْلَامُ يعز اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ بَعْدَ ذِلَّةٍ وَ يُحْيِيْهِ بَعْدَ مَوْتِهِ " یعنی مهدی بَ دین کو قائم کرے گا اور اسلام میں نئی روح پھونکے گا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے اسلام کو ذلت کے بعد عزت اور موت کے بعد زندگی عطا کرے گا۔(۳) بہاء اللہ نہ صرف یہ کہ لفظی الہام کا قائل نہ تھا جس کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام قائل تھے بلکہ وہ اپنے کلام کو ہی خدا کا کلام قرار دیتا تھا۔گویا وہ خود ہی مدعی الوہیت تھا۔(۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کی طرح اس کی کتاب الاقدس " وغیرہ کی بھی کبھی عام اشاعت نہیں ہوئی نہ اس کی اشاعت کی اجازت دی گئی۔(۵) یہ فتنہ بدشت سے شروع ہوا جو علاقہ خراسان میں واقع ہے اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔" الدَّجَالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضِ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَان۔" یعنی دجال مشرق کی سرزمین RO