تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 356
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۵۳ ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق دیکھوئی وسیع کرے جیسے خدا کے اخلاق وسیع ہیں۔پس اسی طرح حقیقی مذہب والا تنگ ظرف نہیں ہو سکتا۔کوئی ہزاروں اسے گالیاں دے وہ اس پر پتھر نہیں برسادیتا۔آخر میں حضور نے یہ قیمتی نصیحت فرمائی دل کو روشن کرو پھر دوسروں کی اصلاح کے لئے زبان کھولو۔اس ملک کی شائستگی اور خوش قسمتی کا زمانہ تب آئے گا جب نرمی زبان نہ ہو گی بلکہ دل پر دارومدار ہو گا۔پس اپنے تعلقات خدا تعالٰی سے زیادہ کرو۔یہی تعلیم سب نبیوں نے دی ہے اور یہی میری نصیحت ہے " سٹیج پر جہاں حضور نے کھڑے ہو کر تقریر شروع فرمائی تھی۔اس بات سے خوش ہو کر لوگوں نے میری بات سن لی ہے۔آپ خوشی میں تقریر کرتے کرتے کوئی پانچ چھ قدم آگے بڑھ آئے تھے۔اس موقعہ پر ایک نہایت عجیب واقعہ یہ ہوا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب وکیل (جو غیر احمدی تھے اور اس جلسہ میں موجود تھے ) کہتے ہیں کہ میں نے دوران تقریر میں دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سر سے نور کا ایک ستون نکل کر آسمان کی طرف جا رہا تھا۔اس وقت میرے ساتھ ایک اور دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے میں نے ان سے کہا دیکھو وہ کیا چیز ہے۔وہ دیکھتے ہی پکار اٹھے کہ یہ نور ہے جو حضرت مرزا صاحب کے سر سے نکل کر آسمان تک پہنچا ہوا ہے۔اس نظارہ کا شیخ صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے اسی دن حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔حضرت اقدس" کا تحریری لیکچر پہلے ہی ایک رسالہ کی شکل میں میاں معراج الدین صاحب عمر سیکرٹری انجمن فرقانیه و حکیم شیخ نور محمد صاحب مالک ہمدم صحت لاہور نے رفاہ عالم سٹیم پریس لاہور سے شائع کر دیا تھا۔اور زبانی تقریر انہی دنوں الحکم میں چھپ گئی تھی۔میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل کا چشم دید بیان ہے کہ جلسہ سے واپسی پر راستہ میں میں نے دیکھا کہ مولوی غلام اللہ قصوری صاحب (متوفی ۱۹۲۲ء) جو کہ سفید ریش تھے ایک جگہ وعظ کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ مرزا صاحب کے پاس گیا۔وہ چونکہ حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے ان کو جاتے ہی کہا کہ اگر آپ اس حجرے سمیت آسمان پر چلے جائیں پھر بھی میں آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا۔بہر حال مخالفت کی اس شدت کے باوجود حضور کا یہ چوتھا لیکچر نہایت کامیاب ہوا اور آپ ہزاروں سعید روحوں تک پیغام حق پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔انہی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک سبز پوش فقیر نے اصرار کیا کہ آپ مجھے لکھ دیں کہ جو کچھ آپ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے سب سچ ہے۔حضور نے فرمایا ایک ہفتہ بعد آؤ ہم لکھ دیں گے۔جب ایک ہفتہ کے بعد وہ آیا تو حضور نے یہ الفاظ لکھ کر اور اپنی مہرلگا کر اسے دئیے۔۱۲۵