تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 354
تاریخ احمدیت جلد ۲ ہے۔۳۵۱ ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پینگوئی مہمانوں کی مہمانداری کر رہی ہے یہ اخوت، ہمدردی اور جوش ایثار سنجیدہ پبلک کی توجہ کے قابل ** تیسر الیکچر ۲ ستمبر کو جمعہ تھا۔خطبہ جمعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھا۔نماز جمعہ کے بعد حضرت اقدس زائرین اور مشتاقان زیارت کے اصرار و خواہش پر۔اجلاس فرما ہوئے۔حاضرین میں سے ہر ایک دوسرے سے پہلے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ان کے بڑھے ہوئے جوش زیارت اور شوق ارادت میں انتظام کا ہونا کوئی آسان امر نہ تھا۔دھکے پر دھکا کھاتے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔آخر جب حضور کا حکم سنا کہ بیٹھ جاؤ تو جہاں کوئی کھڑا تھا وہیں بیٹھ گیا۔حضور خاموش بیٹھے تھے کہ آپ کے ایک ارادت مند نے نہایت پر درد اور پر جوش لہجہ میں پنجابی کی ایک نظم پڑھی جس میں حضور کی لاہور میں آمد کا نہایت موثر پیرایہ میں ذکر تھا۔نظم ختم ہونے کے بعد حضور نے ایک پر معارف اور زوردار تقریر فرمائی جس میں تبلیغ و تربیت کا حق ادا کر دیا۔جب آپ اس مقام پر پہنچے کہ " قرآن شریف میں مسیح کی وفات کا ذکر موجود ہے مگر یہ حضرات ماننے میں نہیں آتے اور اس عقیدہ پر مخالف قرآن شریف آڑے آتے ہیں۔" تو حضور کی آواز اور تقریر میں ایک خاص جلال اور شوکت پیدا ہوئی جس سے آنحضرت ﷺ کی محبت و عظمت جو آپ کے دل میں تھی زبان سے اہل اہل کر سامنے آرہی تھی۔چوتھا عظیم ۱۵ الشان پبلک لیکچر حضور کا چو تھا عظیم الشان لیکچر /ستمبر کو وقت ساڑھے سات بجے اس ملک کے موجودہ مذاہب اور اسلام" کے موضوع پر ہوا۔یہ لیکچر دربار دا تا گنج بخش کے عقب کے منڈوہ میلا رام میں ہوا۔اس لیکچر کے لئے احباب لاہور نے پہلے سے اشتہار دیا تھا اور اس کا بہت چرچا تھا۔علماء نے بھی اس دن عوام کو حضور کی تقریر سننے سے روکنے کی ہر ممکن صورت اختیار کی۔بیرون دہلی دروازہ سے لے کر شاہ محمد غوث اور داتا گنج بخش تک راستہ میں مختلف جگہ پر جلسے ہو رہے تھے۔غیر احمدی ٹولیاں بنا کر کھڑے تھے اور چھاتیاں پیٹتے تھے اور کہتے تھے ” ہائے ہائے مرزا مگر خدا کا فضل ایسا ہوا کہ جب حضرت اقدس فٹن پر سوار ہو کر جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوئے تو رستہ میں جو لوگ مولویوں کی زہریلی تقریریں سن رہے تھے ان میں سے ایک کثیر تعداد حضور کے پیچھے ہولی اور جلسہ گاہ کی رونق میں اضافہ کا موجب بنی۔باوجو د مولویوں کی مخالفانہ کوشش کے منڈوہ میں حضرت کا لیکچر سننے کے لئے بارہ ہزار سے زائد مجمع ہو گیا۔حضرت اقدس نے جلسہ اعظم مذاہب کی طرح مجمع کے سامنے لیکچر بنانے کی خدمت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ہی کے سپرد فرمائی۔چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنے مخصوص انداز