تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 353 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 353

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۳۵۰ " ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پچھوئی حضور کے یہاں پہنچنے کے تیسرے دن بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب (معہ اہل بیت) حضور کے ارشاد کے تحت لاہور تشریف لے گئے اور اس سے اگلے دن نواب محمد علی خان صاب بھی ایک جماعت کے ساتھ لاہور پہنچ گئے۔چند دنوں میں زائرین کافی تعداد میں پہنچ گئے۔لاہور میں حضور نے اتمام حجت کی غرض سے چار عظیم الشان لیکچر دئے۔پہلا لیکچر ۲۱ / اگست ۱۹۰۴ء کو دیا۔حضور ظہر کے وقت تشریف لائے اور نماز با جماعت ادا پہلا لیکچر پرانے کے بعد احباب کی درخواست پر ایک کرسی پر رونق افروز ہوئے۔اس کے بعد آپ نے اصلاح نفس ، مذہب کی غرض ، وحدت جمہوری اور اپنے دعوئی مسیحیت و مهدویت پر نہایت ہی بصیرت افروز روشنی ڈالی۔اس موقعہ پر وزیر آباد کے ایک متعصب مولوی صاحب نے بینجامد اخلت کی اور بیجا کلام کر کے مباحثہ کی طرح ڈالنے کی کوشش کی مگر حضور اول تو اسے نہایت حلیمی سے سمجھاتے رہے لیکن جب معلوم ہوا کہ اس کی غرض رفع شکوک و شبہات نہیں صرف مناظرے کا اکھاڑہ قائم کرنا ہے تو فرمایا کہ مباحثہ کا دروازہ تو ہم بند کر چکے ہیں اب اس میں پڑنا پسند نہیں کرتے۔اس سلسلہ میں حضور نے مولوی صاحب مذکور کے بعض اعتراضات کا مفصل جواب دیا اور جماعت کو تقوی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی اور دعا پر یہ تقریب ختم ہوئی۔دوسرا لیکچر حضور نے ۲۸/ اگست ۱۹۰۴ء کو صبح بوقت سات بجے دیا۔ڈیڑھ ہزار سے دوسرا لیکچر زیادہ افراد حضور کے اس خطاب سے مستفید ہوئے۔اس لیکچر میں حضور نے نہایت لطیف انداز میں حاضرین کو توبہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے دعوئی کے زبر دست دلائل پیش فرمائے۔پیسہ اخبار " لاہور نے (۳۰/ اگست ۱۹۰۴ء کو) اس لیکچر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا۔اس تقریر کے وقت کوئی ڈیڑھ ہزار سے زائد آدمی موجود تھا۔پولیس کا انتظام قابل تعریف تھا۔آخر مرزا صاحب کے مریدوں اور دوسرے لوگوں نے مصافحہ شروع کیا۔قریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ لوگ مصافحہ کرتے رہے بعض لوگ ان ملاقاتیوں سے کسی قدر سختی سے پیش آنے لگے تو مرزا صاحب نے فرمایا۔دیکھو مجھے خدا تعالیٰ نے ایسے وقت میں جب کہ کوئی آدمی میرے ساتھ نہ تھا اس زمانہ کی خبردی تھی کہ کثرت سے لوگ تیرے پاس آئیں گے تو ان سے تھکیو مت اور ان سے بد اخلاقی سے مت پیش آنا۔پس میں اجازت نہیں دیتا کہ ایسا کیا جائے۔جو آگے آنا چاہتے ہوں آنے دو کسی کو جھڑ کو مت اور رو کو نہیں۔یہ معصیت ہو گی۔پھر آپ مریدوں کے ایک لمبے حلقہ میں تشریف لے گئے۔۔۔۔۔مرزا صاحب کے مریدین اس وقت لاہور میں پانچ چھ سو کے قریب جمع ہیں اور لاہور کی جماعت احمدیہ ان