تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 355
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۵۲ ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پیشگوئی میں یہ مضمون پڑھنا شروع کیا جو اپنے دلائل و حقائق کے لحاظ سے خود ہی بڑی جذب و کشش رکھتا تھا۔مضمون کے پہلے حصے میں حضور نے اسلام اور دیگر مذاہب کا اس خوبی سے موازنہ فرمایا کہ زبانیں عش عش کر اٹھیں اور لفظ لفظ سے حق و صداقت کے چشمے پھوٹ پڑے۔دوسرے حصہ میں حضور نے اپنے دعوئی مسیحیت و مهدویت کے ثبوت میں واضح اور صاف دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت اسلامی تفرقہ کے دور کرنے کے لئے اور بیرونی حملوں سے اسلام کو بچانے کے لئے اور دنیا میں گمشدہ روحانیت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے بلاشبہ ایک آسمانی مصلح کی ضرورت ہے جو دوبارہ یقین بخش کر ایمان کی جڑوں کو پانی دیوے اور اس طرح بدی اور گناہ سے چھوڑا کر نیکی کی طرف رجوع دیوے۔سو عین ضرورت کے وقت میں میرا آنا ایسا ظاہر ہے کہ میں ظاہر نہیں کر سکتا کہ بجز سخت متعصب کے کوئی اس سے انکار کر سکے۔اس لیکچر کا اختتام اس دعوئی پر ہوا کہ میری پیشگوئیوں کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی صبر اور صدق سے سننے والا ہو تو ایک لاکھ سے بھی زیادہ پیشگوئیاں اور نشان میری تائید میں ظاہر کئے گئے ہیں۔۔۔میں امید رکھتا ہوں اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص چالیس روز بھی میرے پاس رہے تو کوئی نشان دیکھ لے گا یہ لیکچر تین گھنٹہ میں ختم ہوا۔مولوی عبد الکریم صاحب جب لیکچر پڑھتے تھے تو لوگوں پر محویت کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔اور جب دوران لیکچر میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو لوگ لحن داؤدی سے جھوم جاتے اور مجمع پر ایک سناٹا سا چھا جاتا۔لیکچر بخیر و خوبی ختم ہوا تو خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور خود بھی کچھ ارشاد فرمائیں۔حضور نے فرمایا مجھے زکام کی تکلیف ہے۔خواجہ صاحب نے دوبارہ سہ بارہ درخواست کی کہ جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ہم لوگ کرتے ہیں وگر نہ آپ خود نہ کچھ بول سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔چنانچہ حضور تقریر کے لئے اٹھے تو لوگوں نے جو اتنا عرصہ خاموش تھے چیئر ز کے طور پر تالیاں بجانا شروع کر دیں اور ایک شور مچ گیا۔سپر نٹنڈنٹ پولیس اور بہت سے سپاہی جو انتظام کے لئے آئے ہوئے تھے لوگوں کو خاموش کراتے رہے مگر غوغا کسی طرح کم نہ ہوا۔حضور تو کھڑے ہی رہے مگر مولوی عبد الکریم صاحب نے بیٹھے بیٹھے تلاوت شروع کر دی اور سورہ الفرقان کا آخری رکوع پڑھنے لگے۔ابھی پہلی ہی آیت پڑھی کہ جلسہ میں بالکل خاموشی ہو گئی اور پہلا سا سماں بندھ گیا۔رکوع ختم ہوا تو حضرت اقدس نے سامعین سے ایک مختصر مگر وجد انگیز خطاب فرمایا جس میں ان کا صبر و سکون سے تقریر سننے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اس طرف توجہ دلائی کہ مذہب تو اس لئے ہوتا ہے کہ اخلاق