تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 352
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۴۹ " ایک مشرقی طاقت اور کو ریا کی نازک حالت " کے متعلق پیچھوئی فوزیہ بیگم صاحبہ (ولادت ۲۲ نومبر ۱۹۴۱ء) میاں مصطفی احمد خاں صاحب (ولادت ۱۰/ جولائی ۱۹۴۳ء) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سفر لاہور اور لیکچر اس ملک کے موجودہ مذاہب اور اسلام " حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب گزشتہ سال جنوری ۱۹۰۳ء میں سفر جہلم سے واپس تشریف لا رہے تھے تو حضور نے ایک روز لاہور میں قیام فرمایا۔رات کے وقت جب کہ بہت سے حاضرین زیارت کے لئے جمع تھے۔حضرت اقدس نے ایک نہایت ہی مئوثر تقریر کے دوران میں خود ہی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ کسی وقت لاہور میں چند روز ٹھہر کر اتمام حجت کے لئے تمام مخالفین اسلام کو بذریعہ ایک اعلان کے مدعو کر کے تبلیغ کی جاوے اور نیز جو جو بد گمانیاں ہماری نسبت ہمارے کم فہم مخالفوں نے عوام الناس کے دلوں میں بٹھا رکھی ہیں ان کے دور کرنے کے لئے کوشش کی جائے تاکہ یہ لوگ غلطی میں رہ کر جاہلانہ موت نہ مریں۔ای ارادہ کی تکمیل کے لئے حضور نے پہلے آخر مارچ ۱۹۰۴ء میں لاہور جانے کا فیصلہ کیا مگر اسے شدید مصروفیات کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔پھر حضور نے ۲۰ / اگست ۱۹۰۴ء کو (جبکہ مقدمات گورداسپور زوروں پر تھے) سفر لاہور اختیار فرمایا۔حضور بذریعہ ٹرین گورداسپور سے مع اہل بیت روانہ ہوئے بٹالہ اور امرتسر میں بعض اصحاب نے معیت اختیار کی۔امرتسر اسٹیشن پر احمدی دوست اور دوسرے معززین کثیر تعداد میں زیارت و ملاقات سے مشرف ہونے کے لئے حاضر تھے۔گاڑی دو بجے کے قریب لاہور پہنچی پلیٹ فارم پر حضور کی زیارت کے لئے کثرت سے لوگ موجود تھے اور مل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی۔سب سے اول حضور کے اہل بیت کو گاڑیوں میں سوار کر کے حکیم نور محمد صاحب مالک کارخانہ ہمدم صحت کے زیر اہتمام قیام گاہ تک پہنچایا گیا۔بعد ازاں حضرت مسیح موعود ا در آپ کے دیگر مقتدر اصحاب گاڑیوں میں سوار ہوئے۔حضور کی گاڑی بہت آہستہ آہستہ چلتی تھی تاان لوگوں کو جو حسن عقیدت کی وجہ سے پا پیادہ ہمراہ آرہے تھے تکلیف نہ ہو۔حضور کے قیام کے لئے اس دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر احمدی رئیس کا مکان واقع بیرون دہلی گیٹ تجویز ہوا۔باقی مہمانوں کے لئے میاں چراغ الدین صاحب رئیس کی ” مبارک منزل “ آراستہ کی گئی جہاں حضور نے سفر جہلم کے دوران قیام فرمایا تھا۔