تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 342 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 342

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۳۳۹ کابل میں حضرت سید عبد الخلیف صاحب کی درد ناک شہادت باقی رہے گی وہ بھی مرے گی اور ان میں سے بھی کوئی آدمی عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی۔تب خدا ان کے دلوں میں گھبراہٹ ڈالے گا کہ زمانہ صلیب کے غلبہ کا بھی گزر گیا۔دنیا دو سرے رنگ میں آگئی مگر مریم کا بیٹا عیسی اب تک آسمان سے نہ اترا۔تب دانشمند یک دفعہ اس عقیدہ سے بیزار ہو جائیں گے اور ابھی تیسری صدی آج کے دن سے پوری نہیں ہوگی کہ عیسی کے انتظار کرنے والے کیا مسلمان اور کیا عیسائی سخت نومید اور بدظن ہو کر اس جھوٹے عقیدہ کو چھوڑیں گے اور دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے؟ تذکرۃ الشہادتین کے آخری " تذکره الشهادتین " کا عربی حصہ و علامات المقربین حصہ میں حضرت اقدس نے عربی میں ایک مضمون سپرد قلم فرمایا ہے جس کا عنوان ہے " الوقت وقت الدعاء لا وقت الملاحم و قتل الاعداء اس مضمون کے بعد آپ نے ایک مختصر عربی رسالہ بھی بطور ضمیمہ شامل کیا ہے جس کا نام علامات المقربین ہے اور جس میں مقربین کے صفات و علامات پر نہایت ایمان پرور الفاظ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ایک آسٹریلین نو مسلم قادیان میں محمد عبد الحق صاحب ایک آسٹریلین نو مسلم تھے جو سات سال سے مشرف بہ اسلام تھے۔وہ آسٹریلیا سے لنڈن گئے اور سفیر روم سے اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔سفیر روم نے انہیں مصر کے دارالحکومت قاہرہ جانے کا مشورہ دیا مگر انگلستان کے ایک نو مسلم لارڈسٹینلے نے ان کو صلاح دی کہ ان کا مدعا بمبئی میں حاصل ہو گا۔چنانچہ وہ ہندوستان کے سفر پر بذریعہ جہاز روانہ ہوئے رستہ میں انہیں رویا میں بتلایا گیا کہ تمہار اگو ہر مقصود ان پہاڑوں کی طرف ملے گا جو کہ ہندوستان میں کابل اور کشمیر کی طرف ہیں۔اس اللی اشارے کے تحت انہوں نے پنجاب کی طرف رخ کیا۔لاہور پہنچنے اور اس جستجو میں پھرنے لگے کہ کسی ایسے راستباز مسلمان سے ملاقات ہو جو مجسم اسلام ہو اور اسلام کے تمام خدو خال کا نقشہ اس میں موجود ہوتا اس کی حقیقی صحبت کی برکت سے وہ خود بھی ایک برگزیدہ بن جائیں اور وہ اسلام کی طرف سے ایک نشان اور حجت بن کر اپنے آپ کو مشرقی و مغربی دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔لاہور میں میاں معراج الدین صاحب عمر اور حکیم نور محمد صاحب احمدی کو ان