تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 343
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۴۰ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت کا پتہ چلا تو انہیں اپنے ساتھ قادیان چلنے کی تحریک کی جس پر وہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۰۳ء کو قادیان گئے جہاں ان کا بڑے تپاک سے استقبال کیا گیا۔عبد الحق صاحب نے قادیان میں دو دن قیام کیا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب کے درس قرآن کے معارف سے محظوظ ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ملاقات کی۔دوران ملاقات اس بات کا اظہار کیا کہ یہاں آکر مجھے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی عرصہ سے مجھے تلاش تھی وہ قادیان ہی کے لوگ ہیں۔رنگون میں میں نے آپ کے حالات سنے اور چند تصانیف بھی دیکھی تھیں مگر مجھے آپ کا پتہ معلوم نہ ہوا۔اور یہ امید نہ تھی کہ اس قدر جلد زیارت میسر آجائے گی۔مسٹر عبد الحق صاحب نے یہ بھی عرض کی کہ قرآن مجید کا ایک ترجمہ شائع کیا جائے یورپین لوگوں کو بہت ضرورت ہے۔حضور نے فرمایا کہ میرا خود بھی یہ ارادہ ہے کہ ایک ترجمہ قرآن شریف کا ہمارے سلسلہ کی طرف سے شائع ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے سامنے اپنی اس دیرینہ آرزو کا بھی اظہار فرمایا کہ " یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لئے زندگی کا حصہ وقف کرے۔لیکن ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ صحبت میں رہ کر رفتہ رفتہ وہ تمام ضروری امور سیکھ لیوے جن سے اہل اسلام پر سے ایک ایک داغ دور ہو سکتا ہے اور وہ تمام قوت اور شوکت سے بھرے ہوئے دلا کل سمجھ لیوے جن سے یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے تب وہ دوسرے ممالک میں جا کر اس خدمت کو ادا کر سکتا ہے۔" عبد الحق صاحب نے معذرت کی اور کہا کہ میں کل یہاں سے رخصت ہوں گا اور ایک ضروری دورہ پر روانہ ہوں گا۔اس دورہ کے بعد دیکھوں گا کہ مجھے کونسی راہ اختیار کرنی چاہئے۔چنانچہ وہ اگلے روز ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو واپس چلے گئے پھر معلوم نہیں کہ کیا ہوئے بہر حال حضور نے ان تک پیغام صداقت پہنچانے کا حق ادا کر دیا نواب عبدالرحیم صاحب (ابن حضرت نواب محمد علی خاں صاحب) کی شفایابی کا معجزہ ۲۵/ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے عبد الرحیم صاحب (ابن حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی شفایابی کا معجزہ ظاہر ہوا جس کی تفصیل یہ ہے کہ نواب عبدالرحیم صاحب سخت بیمار ہو گئے چودہ روز مسلسل بخار رہا اور جو اس میں فتور اور بے ہوشی رہی آخر نوبت احتراق تک پہنچی۔حضرت خلیفتہ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کو ہر روز دعا کے لئے عرض کی جاتی تھی اور