تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 341 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 341

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۳۸ کامل میں حضرت سید عبدا حب کی درد ناک شہادت اپنے اہل بیت سے کہا کہ اب میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔سو آپ نے اسی درد ناک حالت میں صاحبزادہ مولوی سید عبد اللطیف شہید کے تصور سے دعا کی کہ یا الہی اس مرحوم کے لئے میں لکھنا چاہتا تھا۔تو ساتھ ہی حضور کو غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔سلام قولا من رب رحیم یعنی سلامتی اور عافیت ہے یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔حضور فرماتے ہیں پس تم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا "۔یہ گویا مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی ایک جدید کرامت تھی جو ان کی وفات کے بعد "تذکرۃ الشہادتین " کی تکمیل کے ذریعہ سے ظاہر ہوئی۔حضرت اقدس نے اس کتاب کے آغاز میں ایک لطیف پیرایہ کتاب کے مضامین کا خلاصہ میں اپنی صداقت پر روشنی ڈالی اور حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب کے سانحہ شہادت کے مفصل حالات لکھے۔13 نیز جماعت کو نصیحت فرمائی کہ اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکینت تم پر اترے گی اور روح القدس سے مدد دیئے جاؤ گے اور خداہر ایک قدم پر تمہارے ساتھ ہو گا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔گالیاں سنو اور چپ رہو۔ماریں کھاؤ اور صبر کرو اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پر ہیز کرد تا آسمان پر تمہاری قبولیت لکھی جاوے۔" تین سو سال تک احمدیت کی عالمگیر روحانی اس کتاب کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں حضور نے نہایت واضح اور کھلے لفظوں میں حکومت کے قیام کی پر شوکت پیشگوئی پیشگوئی فرمائی ہے کہ احمدیت تین سو سال تک دنیا میں غالب آجائے گی اور نزول مسیح کا عقیدہ عیسائی اور مسلمان دونوں ترک کر دیں گے۔چنانچہ حضور نے لکھا۔"اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ باد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔" " یاد رکھو کہ کوئی آسمان سے نہیں اترے گا۔ہمارے سب مخالف جو اب زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے عیسی بن مریم کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔اور پھر ان کی اولاد جو