تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 333
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۳۰ کابل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت مظلوم و مولوی عبدالحلیم صاحب و مولوی نعمت الله صاحب که شاگردگان صاحبزاده صاحب بودند شهادت ناحق ایشان است نیز میر قلم خان یکی از شاگردگان صاحبزادہ صاحب بود۔ایناں صاحب رسوخ نه بودند از مین سبب محفوظ ماندند از ظلم کشتن و بندی شدن آنها را که شهید کردند سبب این بود که علماء بودند - صاحب رسوخ بودند - شاگردان داشتند تبلیغ احمدیت می کردند - هشت ده خانه احمدیان بودند حکومت تحریر کردند در شکنجه ظلم گرفته اند در حال مخالفین شناخته نمی شود که این احمدی است غیر از خانه میر قلم خان دمن خواجہ محمد خاں۔حکومت قسم دادند که من احمدی نیستم۔دریں سبب ست شدند - ضعیف الایمان شدند و می ترسید اظهار احمدیت نه توانند کرد بلے اولا د ہائے اوشاں زندہ میر قلم خان علی الاعلان می گفته اند که امام مهدی در قادیاں موجود است بر اوا ایمان به آورید قریباً پانزده سال بر او ایمان به آورید مگر خدا او را محفوظ کرده که اجل خود فوت شد - این مضمون من املاء کرده ام خواجہ محمد گواه شد عبد الرحیم صابر بقلم خود ترجمه بیان حاجی خواجہ محمد صاحب عمر ۸۷ سال ساکن خوست حال مهاجر افغانستان کرم ایجنسی پاکستان میں میر قلم خاں کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ہمارا گہرا دوست تھا۔ہمارے ہاں آیا کرتا تھا۔ہم اس کے ہاں جایا کرتے تھے۔اس نے ہم سے بیان کیا تھا کہ میں حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے زمانہ میں جوان تھا۔جب ان کے تابوت کو علاقہ خوست کے موضع المراعی جدران کے حدود میں لے کر پہنچا۔مجھے اطلاع دی کہ آپ چند احباب حضرت صاحبزادہ مرحوم کے جنازہ کے سلسلہ میں میری مدد کے لئے موضع المراعی جدران آجائیں۔ہم آپ کے جنازہ کو کندھوں پر اٹھا کر حضرت صاحبزادہ صاحب کے گھر سید گاہ کے مقام پر لے آئے اور انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا۔جب آپ کی تدفین کا چرچا عوام میں ہوا تو ہر قسم کے مریض بغرض شفاء یابی آپ کی قبر مبارک پر آتے تھے۔اور صحت یاب ہو کر جاتے تھے۔جب اس کا عام چرچا ہوا تو یہ بات امیر حبیب اللہ والی کابل تک پہنچی۔اس نے حاکم خوست کو فرمان بھیجا کہ آپ کے تابوت کو قبر سے نکال کر کسی نامعلوم جگہ پر دفن کر دیا جائے۔تاکہ قبر کا پتہ نہ چل سکے۔حاکم خوست آیا اور نماز عشاء کے وقت ان کے تابوت کو