تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 334 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 334

تاریخ احمدیت جلد ۲ ٣٣١ کابل میں حضرت سید عبدا ب کی دردناک شہادت دفن سے نکالا اور دامن کوہ میں قوم متوں کے قبرستان میں دفن کر کے قبر کے نشان کو نا پید کر دیا۔اس وقت آپ کی قبر کے آثار نا پید ہیں اور معلوم نہیں کہ قبر کہاں ہے۔میر قلم خاں نے یہ بات بیان کی تھی کہ جب ہم نے صاحبزادہ صاحب مرحوم کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔آپ کے تابوت سے عطر کی مانند خوشبو آرہی تھی۔جس سے ہمارے مشام معطر ہو رہے تھے۔حالانکہ آپ کے تابوت پر کوئی عطر نہیں چھڑ کا گیا تھا۔تابوت کے اندر سے ہم سب کو خوشبو آرہی تھی۔میر قلم خاں کی زبانی سنا ہوا بیان ختم ہوا۔حاجی خواجہ محمد مزید بیان کرتا ہے کہ اس کے بعد میں نے خود ذاتی طور پر بہت کوشش کی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی قبر کا سراغ لگاؤں۔اس جگہ گھومتا رہا۔لیکن قبر کا نشان دریافت نہ ہو سکا۔اور اس وقت آپ کی قبر معدوم الاثر ہے۔اس وقت افغانستان میں جو روی تسلط اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔یہ اللہ تعالی کی طرف سے ) صاحبزادہ صاحب شہید مظلوم اور ان کے مظلوم شاگردان شہید مولوی عبد الرحمن صاحب، مولوی عبد الحلیم صاحب مولوی نعمت اللہ صاحب کے قتل ناحق کا انتقام ہے۔میر قلم خاں بھی حضرت صاجزادہ صاحب کے شاگردوں میں سے تھا۔لیکن ایسے شاگرد با اثر نہ تھے۔اس لئے قتل اور قید و بند سے بچ نکلے۔جو شہید ہوئے وہ بدیں سبب کہ علماء میں شمار ہوتے تھے۔اور صاحب اثر و رسوخ تھے۔اور کافی تعداد میں شاگر د ر کھتے تھے اور احمدیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔احمدیوں کے آٹھ۔دس گھرانے تھے۔جنہیں حکومت نے ایذا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔اب مخالفت کے نتیجہ میں یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون احمدی ہے۔کیونکہ انہوں نے بجز میر قلم خاں اور خاکسار خواجہ محمد خاں کے حلفیہ طور پر حکومت کے سامنے احمدیت سے انکار کر دیا ہے۔اسی وجہ سے وہ ست اور کمزور ایمان ہو گئے۔اور خوف کی وجہ سے احمدیت کو ظاہر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ان کی اولادیں اب تک موجود ہیں۔میر میر قلم خاں اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ امام مہدی علیہ السلام قادیان میں موجود ہیں۔ان پر ایمان لائیں۔لیکن اس کے باوجود بھی اللہ تعالی نے ان کو محفوظ رکھا اور انہیں نے قریباً ۱۵ سال قبل طبعی طور پر وفات پائی۔یہ مضمون میں نے املا کر وایا ہے (دستخط) خواجہ محمد گواه شد عبد الرحیم مهاجر بقلم خود 12 حضرت شہید کا حلیہ مبارک اور عادات و فضائل حضرت شہید کا قد اور جسم درمیانہ ریش مبارک بہت گھنی نہ تھی اور جیسا کہ جدید تحقیق سے ثابت ہے عمر کے آخر تک آپ کے اکثر بال سفید ہو چکے تھے۔