تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 331 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 331

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۲۸ کائی میں حضرت سید عبد الطیف صاحب کی درد ناک شہادت تب یہ سب دوبارہ حضرت شہید کی لاش پر آگئے اور اسے تابوت میں رکھ دیا۔اس وقت لاش اس قدر بھاری تھی کہ اٹھائی نہیں جاسکتی تھی۔سید احمد نور صاحب کاہلی کا بیان ہے کہ اس وقت میں نے لاش کو مخاطب کر کے کہا کہ ”جناب یہ بھاری ہونے کا وقت نہیں۔ہم تو ابھی مصیبت میں گرفتار ہیں کوئی اور اٹھانے والے نہیں آپ ہلکے ہو جائیں"۔اس کے بعد ہم نے ہاتھ لگایا تو لاش اتنی ہلکی ہو گئی تھی کہ میں نے کہا کہ میں اکیلا ہی اٹھاتا ہوں لیکن حوالدار نے کہا کہ نہیں میں اٹھاؤں گا۔آخر وہ میری پگڑی لے کر اور تابوت کو اس کے ذریعہ سے اٹھا کر نزدیک کے ایک مقبرہ میں پہنچا کر رخصت ہوئے۔صبح ہوتے ہی سید احمد نور صاحب نے مقبرہ کے ایک مجاور کو کچھ پیسے دے کر ساتھ کر لیا اور تابوت شہر کے اند رلائے اور شمال کی طرف ایک پہاڑی بالائی سار کے نام ہے جس کے دوسرے جانب واقع قبرستان میں دفن کر دیا۔حضرت شہید کی نعش مبارک یہاں سید احمد نور صاحب کاہلی کے بیان کے مطابق ایک سال اور قاضی محمد یوسف صاحب مردان کی تحقیق کے مطابق صرف چند دن تک رہی اس کے بعد حضرت شہید کے ایک شاگر د میرود نام نے اسے اسکے گاؤں سید گاہ میں لے جا کر دفن کر دیا اور ایک نامعلوم سی قبربنائی۔اتفاقاً خان عجب خاں صاحب احمدی (ساکن زیده ضلع پشاور) مرام شاه وزیرستان میں نائب تحصیلدار تھے انہوں نے اپنے خرچ پر ان کے روضہ کو پختہ اور خوبصورت بنا دیا۔رفتہ رفتہ ملک خوست میں یہ خبر پھیل گئی اور حضرت شہید کے کثیر التعداد معتقدان کے مزار پر بغرض زیارت آنے لگے اور وہ مقام زیارت گاہ خاص و عام ہو گیا۔یہ دیکھ کر حاکم خوست نے (نائب السلطنت سردار نصر اللہ خان کو اطلاع دی۔انہوں نے شاہ خاصی محمد اکبر خان حاکم اعلیٰ خوست سمت جنوبی کو حکم دیا کہ فورا فوج کا ایک دستہ لے کر روضہ پر پہنچو اور راتوں رات تابوت نکال کر کسی غیر معروف مقام کی طرف لے جاؤ۔چنانچہ جنوری ۱۹۱۰ ء میں شاہ خاصی نے تابوت کو رات کے اندھیرے اور فوج کی حفاظت میں نکال کر کسی نامعلوم جگہ میں دفن کر دیا۔اس طرح خدائی مصلحت نے حضرت شہید کی قبر کو شرک کی آماجگاہ بننے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔