تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 330 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 330

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۲۷ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی دردناک شہادت کی وجہ سے افسر عطاء مقرر کیا تھا۔معلوم نہیں کہ ان کو مرزا صاحب قادیانی سے کس طرح جان پہچان ہو گئی کہ موسم سرما گزشتہ میں وہ خوست سے باجازت امیر حبیب اللہ خاں صاحب حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئے اور بجائے حج کے مرزا صاحب کے پاس چلے گئے اور جب وہ دو تین ماہ وہاں رہ کر خوست میں واپس آئے تو مرزا صاحب کے چند رسالے و کتب مع اپنے عقیدہ تحریری کے سردار نصر اللہ خاں صاحب کی خدمت میں بھیج دیئے جس پر فور ابارہ سوار کابل سے آئے اور مولوی مذکور کو گرفتار کر کے لے گئے اور اس کو علماء کے سپرد کیا گیا۔انہوں نے اس کو مرزائی عقیدہ سے تائب ہونے کے لئے کہا مگر وہ تائب نہ ہوا جس پر عام مجمع علماء اور رؤسا کے سامنے اس کو سنگسار کیا گیا۔اس خاندان کے باقی اشخاص بھی اگر چہ مرزائی عقیدہ کے پیرو نہ تھے تاہم مردو زن وہ بھی گرفتار کئے گئے ہیں اور ان کا اثاث الیت نیلام ہو کر ان کو کابل جانے کا حکم ہوا ہے " حضرت شہید کا مزار مبارک سید عبد اللطیف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مقتل پر تین روز تک سخت پہرہ رہا بعد اس کے سرکاری انتظام کیا گیا کہ حضرت شہید کی نعش کو کوئی نکال کر نہ لے جائے اور بظاہر کوئی صورت نعش کو نکالنے کی نہیں تھی کہ حضرت شہید کے ایک شاگرد سید احمد نور کابلی (جو حضرت شهید مرحوم کے سفر قادیان میں ان کے ساتھ رہے اور بیعت سے مشرف ہوئے اور جن کو حضرت شہید نے وصیت فرمائی کہ جب میں مارا جاؤں گا تو میرے مرنے کی اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دیتا یہ عزم کر کے کابل پہنچے کہ خواہ مجھے بھی بالا خر سنگسار ہونا پڑے میں حضرت شہید کی نعش مبارک نکال کر دفن کرنے کی کوشش کروں گا۔وہ کابل میں ایک مزدور سے تابوت اور کفن دفن کا سامان وغیرہ اٹھوا کر آدھی رات کے وقت شہادت گاہ پر گئے۔نعش کو پتھروں کے نیچے دبے ہوئے چالیس دن ہو گئے تھے۔تھوڑی دیر بعد پلٹن کے ایک حوالدار بھی جو حضرت شہید کے دوست تھے امداد کے لئے چند اور ساتھیوں کے ساتھ پہنچ گئے۔احتیاطا ایک آدمی کو پہرہ کے لئے مقرر کیا گیا اور باقیوں نے پتھر ہٹا کر صاف میدان کر دیا۔جب نعش مبارک نظر آنے لگی تو ایک اعلیٰ درجہ کی خوشبو نے آپ کے جسد اطہر سے نکل کر فضا کو معطر کر دیا جب نعش زمین سے اٹھا کر کفن میں رکھی گئی تو سید احمد نور صاحب کو بذریعہ کشف دکھایا گیا کہ پہاڑی کے پیچھے پچاس آدمی اور ایک سوار گشت پر آرہے ہیں۔اس زمانہ میں رات کے وقت پرہ ہوتا تھا اور اگر کوئی رات کو پکڑا جاتا تو اسے بلا تامل مار دیا جاتا تھا۔چنانچہ اس کشف پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو لاش سے بہٹ کر اوٹ میں آنے کے لئے کہا۔تھوڑی دیر بعد واقعی بہت سے آدمی اور سوار آگئے جو کچھ دیر بعد پلٹ گئے۔