تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 19
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 19 مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔میں حلفا کہہ سکتا ہوں کہ میری دعا ئیں تیس ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے (۴) میں غیبی اخبار کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔" - حضرت اقدس نے کتاب کے آخر میں نہایت درجہ ہمدردی اور دلسوزی سے الہی بخش صاحب کو ان کا نام لئے بغیر نصیحت فرمائی کہ " میرے عزیز علم اس دھو کہ میں نہ رہیں کہ فقرات الہامی اکثر ان پر وارد ہوتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میری جماعت میں اس قسم کے علم اس قدر ہیں کہ بعض کے الہامات کی ایک کتاب بنتی ہے۔نیز یہ لطیف نکتہ بتایا کہ ہم انکار نہیں کرتے کہ آپ پر لانی علم کے چشمے کھل جائیں مگر ابھی تو نہیں۔خوابوں اور کشنوں پر استعارات اور مجازات غالب ہوتے ہیں مگر آپ نے اپنے خواب کو حقیقت پر حمل کر لیا۔مجد د صاحب سرہندی نے ایک کشف میں دیکھا تھا کہ آنحضرت اللہ کو ان کی طفیل خلیل اللہ کا مرتبہ ملا اور اس سے بڑھ کر شاہ ولی اللہ صاحب نے دیکھا تھا کہ گویا آنحضرت اللہ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے مگر انہوں نے باعث سلت علم کے وہ خیال نہ کیا جو آپ نے کیا بلکہ تاویل کی۔" افسوس منشی منشی اللهی بخش صاحب میدان مخالفت میں اور ان کا عبرت ناک انجام الی بخش صاحب "ضرورة الامام " جیسی مفصل و مدلل کتاب پڑھنے کے بعد بھی اپنے خیالات و وساوس کو دور کرنے کی بجائے اگلے سال ہی میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی کی طرح کھلم کھلا میدان مخالفت میں آگئے اور اپنے دوستوں میں یہ مشہور کر دیا کہ انہیں خدا نے بذریعہ الهام خبر دی کہ مرزا صاحب (معاذ اللہ ) مصرف و کذاب ہیں لیکن وہ اس مصلحت سے یہ الہامات شائع نہیں کرتے کہ مبادادہ ہم پر انگریزی عدالت میں نالش کر دیں۔حضرت اقدس کو آپ کے پرانے رفیق شیخ حامد علی صاحب ساکن تھہ غلام نبی نے حافظ محمد یوسف صاحب ڈپٹی کلکٹر انہار کی زبانی یہ بات سنائی جس پر حضور نے منشی الہی بخش صاحب کو اللہ تعالیٰ کی قسم کا واسطہ دے کر یقین دلایا کہ میں ایسے الہامات کی اشاعت پر کوئی نالش نہیں کروں گا بشرطیکہ وہ یہ الہامات حلفاً شائع کریں اور لکھیں کہ اگر یہ میری انترا پردازی ہے تو خدا تعالیٰ مجھے اس کی پاداش میں سزا دے۔منشی صاحب نے خدا کے شیر کی یہ لنکار سنی تو حضور کی مخالفت میں " عصائے موسیٰ " کے نام سے چار سو صفحات کی ایک کتاب لکھ کر شائع کی اور اس میں بڑے طمطراق سے اپنے الہامات مثلا هُوَ الَّذِى ارْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْنَ اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرْوغيره