تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 20
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام بھی شائع کئے۔مگر حضور کے ارشاد کے مطابق حلفیہ بیان شائع نہ کیا۔لیکن چونکہ انہوں نے اپنی کتاب کا نام "عصائے موسی" رکھ کر خدا کے صحیح کو معاذ اللہ فرعون اور اپنے آپ کو موسیٰ قرار دیا تھا نیز اس میں الہامات لکھے تھے کہ آپ پر خدا کا غضب نازل ہو گا اور طاعون میں مبتلا ہو جائیں گے۔دوسری طرف اپنے ایک الہام کی بناء پر یہ لکھا تھا کہ جو خدمت مجھ کو سپرد ہوئی جب تک پوری نہ ہو ئیں ہرگز نہ مروں گا اس لئے وہ حضور کی زندگی میں ہیے۔اپریل ۱۹۰۷ء کو لاہور میں طاعون کا شکار ہو کر اس جہان سے رخصت ہو گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک اور نشان ظاہر ہوا۔Y اہلحدیث 11 اپریل ۱۹۰۷ ء نے ان کی وفات کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا۔افسوس منشی الہی بخش صاحب لاہوری مصنف عصائے موسیٰ بھی طاعون سے شہید ہو گئے۔" امن عامہ کے قیام کے لئے ایک اور ضروری میموریل امہات المومنین" کی اشاعت پر مسلمانوں میں زبردست ہیجان دیکھ کر عیسائی اخبار " نور افشاں" (لدھیانہ) نے نہایت درجہ عاقبت نا اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اور زیادہ اشتعال پھیلانا شروع کر دیا جس نے ملکی فضا کو اور زیادہ مکدر کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فتنہ و فساد کے شعلوں کو پھیلتے دکھا تو اکتوبر ۱۸۹۸ء میں وائسرائے ہندو کٹر الیگزنڈر بروس الجن (۱۸۴۹ - ۱۹۱۷) (Victor Alexander Bruce gth Earl of Elgion) کے نام ایک میموریل بھیجا جس میں ۱۸۹۵ء کے مذہبی مباحثات سے متعلق میموریل کی تجاویز کا اعادہ کرتے ہوئے مزید یہ تجویز بھی پیش فرمائی کہ گور نمنٹ عالیہ دس برس تک جس حد تک مناسب سمجھے اس طریق بحث کو قطعاً مسدود فرمادے کہ کوئی فریق دوسرے کے عقیدے اور مذہب پر حملہ کرے یا کسی قسم کی نکتہ چینی سے فریق مخالف کو ایذا پہنچا دے بلکہ ہر ایک فریق اپنی کل تحریروں اور تقریروں کو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے تک محدود رکھے اور دوسرے فرقوں اور دوسرے فرقوں کے عقائد اور ان کے حسن و قبیح کا ذکر نہ کرے۔" افسوس پہلے میموریل کی طرح انگریزی حکومت نے اس اہم میموریل کی طرف بھی کوئی توجہ نہ کی۔شاید انگریزی حکومت ان دنوں جس مذہبی آزادی کے تصور میں سرشار تھی وہ ایسا قدم اٹھانے سے اسے روکتا تھا۔