تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 293
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹۰ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر دینے والا دنیاوی کاموں میں کتنا ہی جھوٹا ثابت ہو مجھے اس سے فتوئی لینے میں کوئی تامل نہ ہو گا۔21 ۲۵ تا ۱۲۸ جولائی کو مولوی غلام محمد صاحب قاضی تحصیل چکوال کی شہادت صفائی اور اس پر جرح ہوئی۔ای شهادت و جرح پر مقدمہ میں شہادت استغاثہ ختم ہوئی اور وہی فرد جرم جو بابو چند و لال صاحب سابق مجسٹریٹ نے لگایا تھا بحال رکھا گیا۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی گواہی کیلئے درخواست اور مجسٹریٹ کا انکار حضرت اقدس علیہ السلام کے وکلاء کی طرف سے قبل ازیں ۲۴ گواہوں کی ایک فہرست دی گئی تھی جن میں سب سے اہم جناب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی تھے مگر مجسٹریٹ صاحب نے صرف گیارہ گواہ بلانے منظور کئے اور دیگر گواہوں کے علاوہ پیر مہر علی شاہ صاحب کو چھوڑ دیا جس پر حکیم فضل دین صاحب نے مجسٹریٹ صاحب کو تحریری درخواست پیش کی کہ اس تمام مقدمہ میں کوئی واقعہ ثبوت طلب نہیں کہ جس کے متعلق گواہ نے کور کو ذاتی علم نہ ہو۔پھر کتاب "اعجاز المسیح " مترو کہ محمد حسن متوفی کے نوٹوں کے بارے میں پیر صاحب کا بیان فیصلہ کن ہو گا۔علاوہ ازیں یہ امر ثابت ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اور مستغیث کی خط و کتابت ہے اور مستغیث کے دستخط کو یہ جانتے ہیں اور چونکہ وہ سجادہ نشین ہیں اس لئے ممکن نہیں کہ وہ جھوٹی شہادت دیں۔یہ بہت ہی ضروری ہے ہم اس کے عوض ایک اور گواہ بھی چھوڑنے کو تیار ہیں۔لیکن مجسٹریٹ صاحب نے یہ درخواست رد کردی اور پیر صاحب موصوف کو جو اس مقدمہ کے ایک نہایت اہم گواہ تھے عدالت میں پیش نہیں ہونے دیا۔اس کے بر عکس // اگست کو حضرت اقدس کے وکیل نے درخواست کی کہ اب حضور کو حاضری عدالت سے معاف رکھا جائے تو مجسٹریٹ صاحب نے حکم دیا کہ آپ سے حاضری عدالت کے لئے مچلکہ دلایا جائے۔چنانچہ اس وقت مچلکہ داخل کر دیا گیا۔مقدمہ کا فیصلہ اور حضور کو قید کرنے غرض کہ اس نوعیت کی لمبی چوڑی عدالتی کارروائیوں کے بعد (جو ۲۴ / ستمبر ۱۹۰۴ء تک کی دوسری سازش میں مجسٹریٹ کی ناکامی ختم ہوئی ) آئندہ تاریخ یکم اکتوبر ۱۹۰۴ء مقرر کی گئی۔چونکہ اس روز عام خبر تھی کہ فیصلہ سنایا جائے گا اس واسطے کچھری کے احاطہ میں بہت سے لوگ جمع تھے۔خصوصاً حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اڑھائی تین سو خدام مقدمہ کا فیصلہ سننے کے لئے کراچی حیدر آباد سندھ ، پشاور ، وزیر آباد، راہوں ضلع جالندھر کپور تھلہ قادیان لاہور، امرتسر ، نارووال دینا نگر وغیرہ مقامات سے پہنچے ہوئے تھے۔لیکن افسوس اس تاریخ کی for