تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 294
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹۱ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر بجائے مجسٹریٹ لالہ آتما رام صاحب نے ۸ / اکتوبر ۱۹۰۴ء کو فیصلہ سنایا جس میں حضرت اقدس مسیح موعود کو پانچ سو روپیہ اور حکیم فضل الدین صاحب کو دو سو روپیہ جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی چھ چھ ماہ قید کی سزادی۔فیصلہ کے وقت اس نے اچھی طرح پولیس کا انتظام کیا ہوا تھا اور عدالت کے ارد گرد سپاہی کھڑے تھے جو کسی کو اندر نہیں جانے دیتے تھے۔۸ اکتوبر کو ہفتہ کا دن تھا اور یہ دن مجسٹریٹ صاحب نے ایک خاص منصوبہ کے تحت مقرر کیا تھا اور وہ یہ کہ اگلے دن تعطیل تھی اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ فیصلہ برخاست عدالت سے صرف چند منٹ پیشتر سنایا جائے تا حضرت اقدس کی طرف سے جرمانہ کی فوری ادائیگی نہ ہونے پائے اور آپ کو کم از کم ہفتہ اور اتوار دو روز تو جیل خانہ میں رکھا جا سکے۔قید سے بچاؤ کیلئے خدام کی ایک تجویز اور حضور کا ارشاد منشی احمد دین صاحب لدھیانوی ملازم نواب محمد علی خاں صاحب کا بیان ہے کہ میں ان دنوں گورداسپور آیا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور چند اور احباب مل کر مشورہ کر رہے تھے کہ اگر مجسٹریٹ نے قید کا حکم سنایا تو ہم اپیل کریں گے۔مجھ سے انہوں نے دریافت کیا تو میں نے کہا کہ یہ مشورہ فضول ہے جب ایک دفعہ ہتھکڑی لگ جائے اور قید خانے میں چلے جائیں تو ہماری عزت کہاں۔انہوں نے کہا آپ ہی بتائیں کیا کرنا چاہئے۔میں نے مشورہ دیا کہ ایک آدمی تلاش کرو اور چار ہزار یا میں ہزار وغیرہ جتنی ضمانت مانگنے کا احتمال ہو سکتا ہے اتنی جائداد کا وہ مالک ہو اور بروقت ضمانت دے سکے اور ایک درخواست اپیل کی لکھ کر اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخط کروائے جائیں اور اپیل چونکہ سیشن کورٹ امرتسر کی عدالت میں ہوگی اس لئے امرتسر میں ایک بیرسٹر کو ایک دن کی پوری فیس دی جائے اور وہ عدالت کے دروازے پر موجود رہے اور ایک موٹر اپنے قبضہ میں رکھنی چاہئے۔حکم سنتے ہی فوری تار دیا جائے اور وہ بیرسٹر جو امرتسر سیشن جج کی عدالت کے دروازے پر کھڑا ہوا پیل داخل کر کے منظوری کی بذریعہ فوری تار اطلاع دے دے۔یہ رائے سن کر سب عش عش کر اٹھے کہ یہ رائے بہت اچھی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ آپ ہی حضرت صاحب کے پاس جا کر اس رائے کو پیش کریں۔چنانچہ میں گیا۔حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے میں حضور کے پاؤں دابنے لگا۔باتوں باتوں میں میں نے ذکر کیا معلوم ہوتا ہے حج دشمن ہے اور اس کی نیت نیک نہیں۔آپ نے فرمایا ہاں ہے تو دشمن ہی۔تو میں نے عرض کیا کوئی تدبیر کرنی چاہئے۔اور پھر خود ہی اپنی پوری سکیم حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔سن کر بیٹھ گئے اور فرمایا "خشی صاحب یہ تو انتہائی تدبیر ہے اگر یہ کی جائے تو اس طرح خدا