تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 292 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 292

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۹ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد شفر نہ کریں کہ میرے ہیں جن کا اس نے عدالت میں انکار کیا تب تک کوئی صفائی نہیں۔وفد نے کہا کہ حضور حکام کی نظر اچھی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا۔حکام کیا کریں گے مجھے سزا دے دیں گے اور کیا کریں گے۔یہ سن کر وفد واپس چلا گیا۔مگر اس واقعہ کے بعد بھی وفد کی طرف سے مصالحت کی کوششیں جاری رہیں اور بالا خریہ قرار پایا که مولوی کرم دین صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام علیحدہ علیحدہ بیان لکھیں۔حضور کا بیان یہ ہو کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے الفاظ کذاب بهتان و لتیم مولوی کرم دین کے متعلق یہ یقین کر کے لکھے تھے کہ خطوط محولہ مقدمات اور مضامین مندرجہ سراج الاخبار ۱۳۹۶ / اکتوبر ۱۹۰۲ء مولوی کرم دین کے ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو۔" ای طرح مولوی کرم دین صاحب کے تحریری بیان کے الفاظ یہ ہوں کہ ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ خطوط محولہ مقدمات جو میری طرف سے ظاہر کئے گئے اور مضمون سراج الاخبار مندرجہ ۶۔اکتوبر و ۱۳ اکتوبر ۱۹۰۲ء جو میرے نام پر اخبار میں شائع ہوئے ہیں میرے نہیں نہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو۔" مصالحت کنندوں نے یہ مجوزہ مسودہ صحیح تسلیم کیا البتہ یہ کہا کہ اس میں لعنت کا لفظ بڑا سخت ہے اس کو کسی طرح بدل دیا جاوے۔سو حضور نے اس کی بجائے یہ ترمیم کر دی کہ ”میں اس مقدمہ کو انصاف کے لئے خدا تعالٰی کی عدالت میں سپرد کرتا ہوں۔لیکن جب یہ مسودہ مولوی کرم دین صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں قسم نہیں کھاتا۔حالانکہ قبل ازیں رائے چندو لال کی عدالت میں وہ حلفیہ بیان دے چکے تھے۔آخر یہ فیصلہ ہوا کہ بجائے خدا کی قسم کے اقرار صالح کا لفظ لکھا جاوے۔چنانچہ مسودہ میں اس کے مطابق ترمیم کر دی گئی مگر بعد ازاں مولوی کرم دین صاحب نے یہ اعتراض اٹھا دیا کہ مسودہ سے خدا کی عدالت میں انصاف کے لئے سپردگی کے لفظ بھی نکال دئے جائیں جس کی وجہ یہ بتائی کہ میرے برخلاف پیش گوئیاں کی جائیں گی۔سو اس کے متعلق بھی شرط مان لی گئی تھی لیکن وہ کسی طرح رضامند نہ ہوئے اور وفد کی طرف سے مصالحت کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں۔مقدمہ کی کارروائی پھر شروع ہو گئی۔اب مقدمہ کی کارروائی پھر سے شروع ہو گئی۔چنانچہ ۱۶ ۱۷ جون کو مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور مولوی ثناء اللہ کی باقی جرح ختم ہوئی۔12 جون کو مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود کے وکلاء کے ایک سوال کے جواب میں بیان دیا کہ مفتی ہو نا لیاقت پر منحصر ہے اس لئے فتویٰ