تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 290 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 290

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۷ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد مغر ایک دفعہ چند و حل نے عدالت میں حضور کے الہام انی مهین من اراد اهانتک کے متعلق سوال کیا کہ یہ خدا نے آپ کو بتایا ہے ؟ حضور نے فرمایا یہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا مجھے سے وعدہ ہے۔وہ کہنے لگا جو آپ کی ہتک کرے وہ ذلیل و خوار ہو گا۔آپ نے فرمایا بے شک۔اس نے کہا اگر میں کروں۔فرمایا چاہے کوئی کرے۔تو اس نے دو تین مرتبہ کہا۔اگر میں کروں۔تو آپ یہی فرماتے رہے چاہے کوئی کرے۔پھر وہ خاموش ہو گیا۔" دوسرے مجسٹریٹ مہتہ آتما رام صاحب لالہ چند دلال کی جگہ جو مجسٹریٹ آیا وہ بھی ایک متعصب ہندو تھا جس کا نام مہتہ آتما رام تھا۔اس کی تشدد آمیز پالیسی اور حضرت اقدس شخص نے پہلے مجسٹریٹ سے بھی زیادہ قشر دانہ کا گورداسپور میں دو ماہ تک قیام پالیسی اختیار کی اور ہندوؤں اور عیسائیوں کا آلہ کار بن کر کھلم کھلا تعصب اور جنبہ داری کا مظاہرہ کیا۔اور ایک ایسے انسان کے کھڑے کئے ہوئے مقدمہ کو محض عداوت اور بغض کے باعث بہت لمبا کر دیا جس کا سرقہ دھوکہ دہی اور ازالہ حیثیت عرفی کا جرم بالکل واضح تھا۔قبل ازیں حضور کو ہر عدالت میں باقاعدہ کری ملتی تھی مگر انہوں نے نہ صرف کرسی دینے سے انکار کیا بلکہ بعض دفعہ سخت پیاس کے باوجود پانی پینے کی بھی اجازت نہ دی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مقدمات کی تاریخیں اتنی قریب قریب مقرر کرنا شروع کر دیں کہ حضرت اقدس کو مئی ۱۹۰۴ء سے جولائی ۱۹۰۴ء تک متعدد بار گورداسپور کا سفر اختیار کرنا پڑا۔اور پھر اس بارے میں اتنی سختی کی کہ بالاخر حضور نے وسط اگست ۱۹۰۴ء سے مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور میں ہی ٹھرنے کا فیصلہ کر لیا۔چنانچہ حضور ۱۳ / اگست کو دار الامان سے روانہ ہو کر بٹالہ سے گورداسپور تشریف لے گئے۔مہمانوں کی رہائش کے لئے عارضی طور پر حضور کی فرودگاہ کے سامنے ایک بڑا شامیانہ نصب کر دیا گیا۔اس طرح احاطہ کچھری میں بھی جب تک حضور وہاں قیام پذیر رہے حضور کے ملفوظات کا چشمہ جو قادیان میں رواں ہوا کرتا تھا گورداسپور میں بھی جاری رہا اور آپ تبلیغ حق کی سعی و جدوجہد میں ایک بہادر جرنیل کی طرح دیوانہ وار مصروف رہے۔دو ماہ بعد ۱۱/ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضور قادیان تشریف لائے۔یہ دن ساکنان قادیان کے لئے عید سے کم نہ تھا۔مقدمہ میں حضرت مسیح موعود کے منصب عمومی واقعات کے بیان کے بعد اب ہم لالہ اتمارام کی سماعت کے زمانہ کی تفصیلات کی نبوت کے بارے میں بار بار وضاحت طرف آتے ہیں۔لالہ آتما رام صاحب نے گورداسپور میں منتقل ہونے کے معا بعد ا/ اپریل ۱۹۰۴ء کو اس مقدمہ