تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 291
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۸ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر کی سماعت شروع کی۔۱۰ مئی سے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے گواہ استغاثہ کا بیان و جرح شروع ہوئی مولوی صاحب نے ۱۳ مئی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں یہ حلفیہ بیان دیا کہ۔مکذب مدعی نبوت کذاب ہوتا ہے۔مرزا صاحب ملزم مدعی نبوت ہے۔اس کے مرید اس کو دعوے میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔پیغمبر اسلام مسلمانوں کے نزدیک سچے نبی ہیں اور عیسائیوں کے نزدیک جھوٹے ہیں۔" انہوں نے ایک ماہ بعد ۱۶ / جون ۱۹۰۴ء کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی موجودگی میں بجواب مستغیث دوبارہ حلفاً بیان دیا کہ۔مرزا صاحب دعوی نبوت کا اپنی تصانیف میں کرتے ہیں۔یہ دعوی نبوت اس قسم کا ہے کہ میں نبی ہوں لیکن کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔ایسے مدعی کا مکذب قرآن شریف کی رو سے کذاب ہے۔میلہ مدعی نبوت تھا۔میں اس کی نبوت سے منکر ہوں۔مسلمہ مجھے کذاب کہہ سکتا ہے اگر موجود ہو۔" مقدمہ میں مولوی ثناء اللہ امرتسری استغاثہ کے گواہ تھے چنانچہ انہوں نے بجواب مستغیث کہا کہ مرزا صاحب ملزم کا دعوی میرے نزدیک صحیح نہیں ہے۔قرآن میں حضرت محمد صاحب کو خاتم الانبیاء کیا گیا ہے اور حدیث میں لکھا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔" " اس بیان کے جواب میں دونوں فاضل وکلاء ( خواجہ کمال الدین صاحب و مولوی محمد علی صاحب) نے "تحذیر الناس" وغیرہ کتابیں پیش کر کے ثابت کیا کہ تشریعی نبوت بند ہے مگر غیر تشریعی نبوت جاری ہے۔غرض کہ اس مقدمہ میں حضرت اقدس کے دعوی نبوت کا ایسا کھلا اور واضح اعلان خود حضرت اقدس علیہ السلام اور آپ کے وکلاء خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے برا کہ آپ کے منصب نبوت کے بارہ میں کوئی شک وشبہ نہ رہا۔جون کے آغاز میں حالات مصالحت کی کوشش اور حضور کا ایمان افروز جواب نے کروٹ لی۔بات معمولی تھی مگر مقدمہ نے طول کھینچا۔یہ صورت حال دیکھ کر گورداسپور کے بعض نیک دل اور دور اندیشن لوگوں نے خلوص کے ساتھ کوشش شروع کر دی کہ فریقین میں صلح ہو جائے۔اور شریف مزاج اور ہمدرد مسلمانوں کا ایک وفد مولوی کرم دین صاحب کو دست برداری پر آمادہ کر کے حضور کی خدمت میں بغرض مصالحت پہنچا۔حضور نے جواب دیا۔صلح کی صورت صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ کرم دین صاحب کہہ دیں کہ یہ میرے ہی خطوط ہیں۔وفد کے ایک ممبر نے کہا کہ وہ مقدمہ سے دست بردار ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا۔یہ مقدمہ ایماء الہی سے ہے جب تک کرم دین صاحب اپنے خطوط کا اقرار