تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 289 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 289

ربیت - جلد ۲۸۶ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعد د ستر کے علاوہ پیر صر علی شاہ گولڑوی کے متعلق جب سرٹیفکیٹ پیش ہوتے رہے تو عدالت نے کبھی یہ تجویز نہیں کی کہ ڈاکٹر خود آکر حلفی شہادت دے مگر مجسٹریٹ صاحب نے اپنا فیصلہ بحال رکھا اور ۱۵/ مارچ ۱۹۰۴ء کو ڈاکٹر صاحب کی شہادت ہوئی جنہوں نے اپنے سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی۔اب لالہ چند ولال صاحب کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ مقدمہ چند ہفتوں کے لئے ملتوی کر دیں۔چنانچہ انہوں نے مقدمہ کی تاریخ ۱۰ / اپریل مقرر کردی۔لاله چند و لال صاحب نے ۱۰ لالہ چند ولال صاحب کی تبدیلی اور عہدہ میں تنزل اپریل کی تاریخ تو اس خیال سے رکھی تھی کہ اب اس کے بعد اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر حضور کو نظر بند کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر عین اس وقت جب کہ ان کے مظالم کا پیمانہ انتہاء تک پہنچ چکا تھا اور سلسلہ کے دشمن متحد ہو کر اپنے بد ارادوں کو عملی شکل میں دیکھنے کو تیار بیٹھے تھے خدا کی غیرت اپنے مامور کی نصرت و تائید کے لئے ایکا یک جوش میں آئی اور خود حکومت نے اپنے مصالح کی بناء پر لالہ چند ولال کو موجودہ عہدہ سے معزول کر کے ان کا تبادلہ بطور منصف ملتان کر دیا۔یعنی وہ اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر سے منصف بنا دئے گئے۔پھر کچھ عرصہ بعد پنشن پاکر لدھیانہ آئے۔یہاں ان کی حالت بہت خراب ہو گئی اور پھر دماغی خرابی میں مبتلا ہو کر کوچ کر گئے۔لالہ چند ولال صاحب کی تنزلی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک دو ہرا چمکتا ہوا نشان تھا کیوں کہ آپ نے اس کے متعلق پیشگوئی بھی فرمائی تھی۔چنانچہ جب ایک دفعہ چند ایک غیر احمدیوں نے حضور سے عرض کیا کہ حضور چندو لال کا ارادہ آپ کو قید کرنے کا ہے۔آپ دری پر لیٹے ہوئے تھے اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ میں تو چند و لال کو عدالت کی کرسی پر نہیں دیکھتا۔20 زوایمان افروز واقعات ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے چند و لال صاحب سے متعلق دو ایمان افروز واقعات لکھے ہیں جو ذیل میں درج کئے جاتے ایک دفعہ دوران مقدمہ میں حضور کا بیان ہو نا تھا اور آدمیوں کی اس دن بہت کثرت تھی اس لئے چندو لال نے اس دن باہر میدان میں کچری لگائی اور حضرت صاحب کے بیان میں دریافت کیا۔آپ کو نشان نمائی کا بھی دعوی ہے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔اور تھوڑی دیر بعد آپ نے فرمایا جو نشان چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں اور یہ بڑے جوش میں آپ نے فرمایا۔اس وقت وہ سنائے میں آگیا اور لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہوا۔"