تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 287
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۷ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعد د سفر کہتے ہوئے آپ کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اٹھے اور حیرت کے ساتھ ادھر متوجہ ہو گئے مگر کمرے کے اندر کوئی نہیں آیا۔حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دہرائے۔اور اس وقت آپ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپ نے فرمایا۔میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہنے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔پھر آپ محبت الہی پر تقریر فرمانے لگے اور تقریبا نصف گھنٹہ تک جوش کے ساتھ بولتے رہے لیکن پھر یکلخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی تے ہوئی جو خالص خون کی تھی جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا اور آنکھیں بھی پونچھیں جوتے کی وجہ سے پانی لے آئیں تھیں۔مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا ہے کیوں کہ آپ نے یکلخت جھک کرتے کی اور پھر سر اٹھا لیا۔مگر میں اس کے دیکھنے کے لئے جھکا تو حضور نے فرمایا۔کیا ہے؟ میں نے عرض کیا حضور تے میں خون نکلا ہے۔تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور دوسرے لوگ بھی کمرے میں آگئے اور ڈاکٹر کو بلوایا۔ڈاکٹر انگریز تھا وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا خطرناک ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے؟ خواجہ صاحب نے کہا آرام کس طرح کریں مجسٹریٹ صاحب قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں حالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یوں ہی طے ہو سکتا ہے۔اس نے کہا اس وقت آرام ضروری ہے میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔کتنے عرصہ کے لئے سرٹیفکیٹ چاہیئے پھر خود ہی کہنے لگا۔میرے خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہئے۔خواجہ صاحب نے کہا فی الحال ایک مہینہ کافی ہو گا۔اس نے فورا ایک مہینہ کے لئے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور لکھا کہ اس عرصہ میں ان کو کچھری میں پیش ہونے کے قابل نہیں سمجھتا۔اس کے بعد حضرت صاحب نے واپسی کا حکم دیا۔مگر ہم سب ڈرتے تھے کہ اب کہیں کوئی نیا مقدمہ نہ شروع ہو جائے۔کیوں کہ دوسرے 12 دن پیٹی تھی اور حضور گورداسپور آکر بغیر عدالت کی اجازت کے واپس جا رہے تھے۔مگر حضرت صاحب کے چہرہ پر بالکل اطمینان تھا۔چنانچہ ہم سب قادیان چلے آئے۔بعد میں ہم نے سنا کہ مجسٹریٹ نے سرٹیفکیٹ پر جرح کی اور بہت تلملایا اور ڈاکٹر کو شہادت کے لئے بلوایا۔مگر اس انگریز ڈاکٹر نے کہا میرا سرٹیفکیٹ بالکل درست ہے اور میں اپنے فن کا ماہر ہوں۔اس پر میرے فن کی رو سے کوئی اعتراض نہیں کر سکتا اور