تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 288 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 288

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۸۵ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر میرا سر ٹیفکیٹ تمام اعلیٰ عدالتوں تک چلتا ہے۔مجسٹریٹ بڑبڑا تار ہا مگر کچھ پیش نہ گئی۔" چیف کورٹ میں انتقال مقدمہ کی جو درخواست دی چیف کورٹ میں درخواست مسترد گئی تھی اس کی پیشی ۲۲ فروری ۱۹۰۴ء کو تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مسٹر آرٹیل بیر سٹرنے وجوہات انتقال پیش کئے لیکن چیف کورٹ نے ان کو نا کافی جان کر درخواست مسترد کردی۔۲۴ مقدمہ پھر سے لالہ چند ولال کی عدالت میں اب مقدمہ پھر سے لالہ چندو لال کی عدالت میں آگیا۔۲۴؍ فروری ۱۹۰۴ء کو خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب نے بطور وکیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستخطوں سے ایک بیان عدالت میں پیش کیا جس میں مقدمہ کے واقعات کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا تھا کہ اصول اسلام کے مطابق اس معاملہ کا ایک اور بھی پہلو ہے اور وہ یہ کہ جو شخص کسی مدعی نبوت اور رسالت کو جھوٹا سمجھتا ہے۔کذاب ہے۔یہ بات شہادت استغاثہ میں تسلیم کی گئی ہے۔اب مستغیث نہایت اچھی طرح جانتا ہے کہ ملزم (یعنی حضرت مرزا صاحب) نے اس حیثیت یعنی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔اور بار جود اس کے مستغیث نے اس کی تکذیب کی ہے۔پس مذہب اسلام کی اصطلاح کی رو سے بھی مستغیث کذاب ہے۔(ترجمہ) ۸ مارچ ۱۹۰۴ء کو خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنی چار گھنٹے کی تقریر میں مستغیث کے اپنے بیانات اور گواہوں کے بیانات سے استنباط کر کے ثابت کیا کہ یہ مقدمہ سرے سے ہمارے خلاف چل ہی نہیں سکتا۔ابھی تقریر باقی تھی کہ عدالت برخواست ہو گئی لہذا ۹ / مارچ کو خواجہ صاحب نے اپنی تقریر ختم کی۔۲۵ حضرت مسیح موعود کی طرف سے ڈاکٹری ۱۴/ مارچ کو بھی مقدمہ کی پیشی تھی مگر ۱۳/ مارچ سرٹیفکیٹ اور مجسٹریٹ کا ناروا رویہ ۱۹۰۴ء کو کیپٹن پی ایس سی مور) سول سرجن صاحب گورداسپور قادیان آئے اور انہوں نے حضرت اقدس کی عام حالت صحت کے لحاظ سے چھ ہفتہ تک سفر کرنے کے ناقابل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا۔لہذا حضور گورداسپور تشریف نہ لے گئے۔لالہ چند و لال صاحب یہ سر ٹیفکیٹ دیکھ کر بہت سٹپٹائے اور انہوں نے سرٹیفکیٹ پر اجلاس دوسرے دن (۱۵/ مارچ ۱۹۰۴ء) کے لئے ملتوی کر دیا کہ سول سرجن صاحب عدالت میں شہادت دیں کہ واقعی مرزا صاحب بیمار ہیں۔خواجہ صاحب نے عدالت کو توجہ دلائی کہ یہ شہادت ایکٹ شہادت" کے رو سے بالکل غیر متعلق ہے۔اس