تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 286
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۸۳ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر نہیں دیکھ سکتا۔اور میں جانتا ہوں کہ مرزا صاحب کا خاندان ضلع میں سب سے زیادہ معزز ہے۔پس میں نے آپ کو یہ خبر پہنچادی ہے کہ آپ اس کا کوئی انتظام کرلیں۔اور میرے خیال میں دو تجویز میں ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ چیف کورٹ لاہور میں یہاں سے مقدمہ تبدیل کرانے کی کوشش کی جاوے۔اور دوسرے یہ کہ خواہ کسی طرح ہو مگر مرزا صاحب اس آئندہ پیشی میں حاضر عدالت نہ ہوں اور ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کر دیں۔مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو ہم سب بھی خوف زدہ ہو گئے اور فیصلہ کیا کہ اسی وقت قادیان کوئی آدمی روانہ کر دیا جاوے جو حضرت صاحب کو یہ واقعات سنا دے۔رات ہو چکی تھی ہم نے یکہ تلاش کیا اور گو کئی یکے موجود تھے مگر مخالفت کا انتا جوش تھا کہ کوئی یکہ نہ ملتا تھا۔ہم نے چار گئے کرایہ دینا کیا مگر کوئی یکہ والا راضی نہ ہوا۔آخر ہم نے شیخ حامد علی اور عبدالرحیم باورچی اور ایک تیسرے شخص کو قادیان پیدل روانہ کیا۔وہ صبح کی نماز کے وقت قادیان پہنچے اور حضرت صاحب سے مختصراً عرض کیا۔حضور نے بے پروائی سے فرمایا۔خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب لاہور سے آتے ہوئے وہاں ہم کو ملیں گے ان سے ذکر کریں گے اور وہاں پتہ لگ جائے گا کہ تبدیلی مقدمہ کے متعلق ان کی کوشش کا کیا نتیجہ ہوا۔چنانچہ اسی دن حضور بٹالہ آگئے۔گاڑی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ صاحب بھی مل گئے۔انہوں نے خبر دی کہ تبدیلی مقدمہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔پھر حضرت صاحب گورداسپور چلے آئے اور رستہ میں خواجہ صاحب اور مولوی صاحب کو اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں دی جب آپ گورداسپور پہنچے تو حسب عادت الگ کمرے میں چار پائی پر جائیے۔مگر اس وقت ہمارے بدن کے رونگٹے کھڑے تھے کہ اب کیا ہو گا۔حضور نے تھوڑی دیر کے بعد مجھے بلایا۔میں گیا۔اس وقت حضرت صاحب نے اپنے دونوں ہاتھوں کے پنجے ملا کر اپنے سر کے نیچے دئے ہوئے تھے اور چت لیٹے ہوئے تھے۔میرے جانے پر ایک پہلو پر ہو کر کہنی کے بل اپنی ہتھیلی پر سر کا سہارا دے کر لیٹ گئے اور مجھ سے فرمایا۔میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ وہ سارا واقعہ سنوں کہ کیا ہے۔اس وقت کمرے میں کوئی اور آدمی نہیں تھا صرف دروازے پر میاں شادی خاں کھڑے تھے۔میں نے سارا واقعہ سنایا کہ کس طرح ہم نے یہاں آکر ڈاکٹر اسمعیل خاں صاحب کو روتے ہوئے پایا۔پھر کس طرح ڈاکٹر صاحب نے منشی محمد حسین کے آنے کا واقعہ سنایا اور پھر محمد حسین نے کیا واقعہ سنایا۔حضور خاموشی سے سنتے رہے۔جب میں شکار کے لفظ پر پہنچا تو یکلخت حضرت صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا۔میں اس کا شکار ہوں ! میں شکار نہیں ہوں! میں شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا شیر وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ ایسا کر کے تو دیکھے۔یہ الفاظ