تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 15
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۵ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام ۴۵۱ شخص رجسٹر کھولنے کا محرک تھا۔حضرت اقدس نے اس مخلص دوست کو اس شخص کا نام بتایا کہ اس سے سلسلہ جنبانی کی جائے لیکن اس نے نہایت غیر معقول عذر کر کے رشتہ دینے سے انکار کر دیا جس پر حضور نے فرمایا کہ آج سے میں شادیوں کے معاملہ میں دخل نہیں دوں گا۔1 گو اس طرح رجسٹر تو نا تمام رہ گیا مگر حضور نے اپنے اشتہار میں شادی بیاہ کے لئے جو اصول ارشاد فرمایا تھا وہ آئندہ چل کر جماعت کی اصلاح و تنظیم اور اخوت ویگانگت اور خالص اسلامی ماحول کے قیام کا بہترین ذریعہ ثابت ہوا اور آپ کی طرف منسوب جن اصحاب نے اسے پس پشت ڈالنے کی کوشش کی وہ ایک لحاظ سے دوسرے عناصر میں ہی جذب ہو کے رہ گئے ہیں اور انہیں اپنی اولادوں کا مستقبل صاف طور پر تاریک دکھائی دے رہا ہے۔مقدمہ انکم ٹیکس سے بریت کا نشان اللہ تعالیٰ کی مالی مدد و نصرت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھی جس کی کثرت کو حاسدوں نے دیکھ کر یہ شاخسانہ کھڑا کر دیا کہ آپ کی آمدنی بہت ہے مگر آپ حکومت کے قانون کے مطابق انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے اور سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچا ر ہے ہیں چنانچہ بعض مخالفین کی مخبری پر وسط ۱۸۹۸ ء میں حضور پر حکومت پنجاب نے سات ہزار دو سو روپیہ پر ایک سو ستاسٹھ روپیہ آٹھ آنہ کا ٹیکس عائد کئے جانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔ڈاکٹر مارٹن کلارک اور ان کے ہمنو جو اپنے مقصد میں ناکام ہو چکے تھے بڑے خوش ہوئے کہ اگر ہمارا پہلا نشانہ خطا ہو گیا تو اس مقدمہ میں اس کی تلافی ہوگی لیکن خدا تعالٰی کو اپنے محبوب کی ذات اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کے نشان کے بعد مالی اعتبار سے بھی نصرت کا نشان دکھلانا مقصود تھا۔یہ مقدمہ ایک ہندو تحصیلدار کے پاس تھا۔حضرت اقدس کی طرف سے شیخ علی احمد صاحب وکیل نے ۲۰/ جون ۱۸۹۸ء کو عذرداری داخل کی۔اسی دوران میں حضور مسجد مبارک میں چند احباب کے ساتھ بیٹھے آمد خرچ کا حساب کر رہے تھے کہ آپ پر کشفی حالت طاری ہوئی اور آپ کو دکھایا گیا کہ ہندو تحصیلدار جس کے پاس مقدمہ تھا بدل گیا ہے اور اس کی بجائے ایک اور شخص کرسی پر بیٹھا ہے جو مسلمان ہے اور اس کشف کے ساتھ بعض ایسے امور بھی ظاہر ہوئے جو فتح کی بشارت دیتے تھے۔حضور نے اسی وقت اپنا یہ کشف حاضرین کو سنا دیا جن میں خواجہ جمال الدین صاحب بی۔اے انسپکٹر مدارس جموں و کشمیر کے علاوہ حضور کے اور بہت سے خدام بھی موجود تھے۔