تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 14 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 14

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام میموریل نہ بھیجا جائے کیونکہ سید صاحب نے اپنی عملی کارروائی سے رد لکھنے کو اس پر ترجیح دی۔" البلاغ" کے بارے میں تجویز تھی کہ اردو کے البلاغ "یا " فریاد درد کی اشاعت علاوہ فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں میں بھی اس کی اشاعت ہو۔لیکن ۱۸۹۹ میں اس کا صرف انگریزی ایڈیشن شائع کیا گیا۔اور اردو ایڈیشن حضور کے وصال مبارک کے بعد ۱۹۲۲ء میں چھپا۔رشتہ ناطہ کے متعلق اپنی جماعت کے لئے ضروری اشتہار " علماء کی مسلسل جدوجہد نے ایسی فضا پیدا کر دی تھی کہ غیر احمدی اقارب سے نئے رشتے غیر ممکن ہو گئے تھے اس لئے وقت آگیا تھا کہ حضرت مسیح موعود جماعت کی اندرونی تنظیم و اصلاح اور اسے اہل و اقارب کے بداثرات سے بچانے کے لئے کوئی واضح قدم اٹھا ئیں چنانچہ حضور نے برسوں کے انتظار کے بعد بالا خرے / جون ۱۸۹۸ء کو جماعت کے نام ایک اشتہار دیا جس میں تحریر فرمایا کہ ” مال میں دولت میں علم میں فضیلت میں خاندان میں پر ہیز گاری میں خداتری میں سبقت رکھنے والے اس جماعت میں بکثرت موجود ہیں۔ہر ایک اسلامی قوم کے لوگ اس جماعت میں پائے جاتے ہیں تو پھر اس صورت میں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگوں سے ہماری جماعت نئے تعلق پیدا کرے جو ہمیں کافر کہتے اور ہمار ا نام دجال رکھتے یا خود تو نہیں مگر ایسے لوگوں کے ثناء خواں اور تابع ہیں۔" کتاب البنين والبنات حضرت اقدس صحیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا گیا کہ شادیوں کے سلسلہ میں بڑی دقت محسوس ہو رہی ہے۔جماعت کے قابل شادی لڑکے اور لڑکیوں کا ایک رجسٹر ہو تو مفید ہو گا۔حضور نے اس معقول تجویز کو پسند فرمایا اور مندرجہ بالا اشتہار میں ہی مخلصین جماعت کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنی اولاد کی فہرستیں بقید عمرو قومیت بھیج دیں تا جماعتی رشتوں کا پرائیویٹ ریکارڈ تیار ہو جائے۔مخلصین جماعت کی طرف سے فہرستیں آنے لگیں تو حضور نے ایک رجسٹر میں اپنے قلم سے ان کا اندراج شروع فرما دیا اور اس کا نام "کتاب البنین والبنات" تجویز فرمایا۔حضور کانشاء مبارک تو مستقل طور پر ان فہرستوں کے اندراج کا تھا مگر ابھی ستر (۷۰) صاحب اولاد اصحاب کے نام درج ہوئے تھے کہ یہ تجویز در میان میں ہی رہ گئی جس کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک مخلص دوست کو رشتہ درکار تھا دوسری طرف اسی شخص کی ایک لڑکی قابل شادی تھی جو الدلم