تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 252
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۲۴۹ اسلام کی طرح تعلیم کہ اسلام میحوں کے ذریعہ سے تباہ کر دیا جائے گا بلکہ وہ ہر روز یہ دعا بھی کیا کرتا تھا کہ ہلال اسلامی نشان) جلد از جلد نابود ہو جائے۔جب اس کی خبر ہندوستانی مسیح کو پہنچی تو اس نے اس ایلیاء ثانی کو للکارا کہ وہ مقابلہ کو نکلے اور دعا کریں کہ ”جو ہم میں سے جھوٹا ہو وہ بچے کی زندگی میں مرجائے۔" قادیانی صاحب نے پیش گوئی کی کہ اگر ڈوئی نے اس چیلنج کو قبول کر لیا تو وہ میری آنکھوں کے سامنے بڑے دکھ اور ذلت کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کر جائے گا۔اور اگر اس نے چیلنج کو قبول نہ کیا تو تب اس کا اختتام صرف کچھ تو قف اختیار کر جائے گا۔موت اس کو پھر بھی جلد پالے گی اور اس کے صیحوں پر بھی تباہی آجائے گی۔یہ ایک عظیم الشان پیش گوئی تھی کہ صحیحوں تباہ ہو جائے اور ڈوئی (حضرت) احمد (علیہ السلام) کی زندگی میں مرجائے۔" مسیح موعود" کے لئے یہ ایک خطرے کا قدم تھا کہ وہ لمبی زندگی کے امتحان میں اس ایلیا ثانی " کو بلائیں۔کیوں کہ چیلنج کرنے والا ہر دو میں سے کم و بیش پندرہ سال زیادہ عمر رسیدہ تھا۔ایک ایسے ملک میں جو پلیگ اور مذہبی دیوانوں کا گھر ہو۔حالات اس کے مخالف تھے مگر آخر کار وہ جیت گیا۔" " بوسٹن ہیرلڈ " نے اپنے سنڈے ایڈیشن (مورخہ ۲۳ / جون ۷ ۱۹۰ء) کے ایک پورے صفحے میں اس پیش گوئی کی تفصیلات درج کیں اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پورے قد کا بڑا نو ٹو بھی شائع کیا اور مندرجہ ذیل دوہرے عنوان کے ساتھ اپنے مضمون کو شروع کیا۔"مرزا غلام احمد المسیح ایک عظیم الشان انسان ہے۔" " آپ نے پہلے ڈوئی کی حسرت ناک موت کی پیش گوئی کی اور اب طاعون طوفان اور زلازل کی خبر دیتے ہیں۔۲۳ / اگست ۱۹۰۳ء کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے الیگزینڈر ڈوئی موسوم بہ ایلیا سوم کی موت کی پیش گوئی کی جو اس مارچ میں پوری ہو گئی۔نیز لکھا۔یہ ہندوستانی صاحب مشرقی دنیا میں کئی برس سے مشہور ہیں۔آپ کا دعوئی یہ ہے کہ آپ ہی صحیح صادق ہیں جو آخر کی زمانہ میں آنے والا تھا۔اور یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنی تائید سے ا ہے۔امریکہ میں آپ کا تعارف ۱۹۰۳ء میں ہوا جب کہ آپ نے ڈوئی سے مقابلہ کیا۔۔۔آپ نے نہ صرف زوئی کی موت کی پیش گوئی کی تھی بلکہ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ آپ کی زندگی میں مرے گا اور بڑی حسرت اور درد اور دکھ کے ساتھ مرے گا۔" اس وقت ڈوئی ۵۹ سال کا تھا اور یہ نبی ۷۵ سال کا۔" ڈوئی ایسی حالت میں مرگیا کہ اس کے دوست اس کو چھوڑ چکے تھے اور اس کی جائداد تباہ ہو