تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 251
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۔۲۴۸ اسلام کی نفع تعظیم چنانچہ " شکاگو ٹربیون" (۱۰۔مارچ ۱۹۰۷ء) نے لکھا۔ڈوئی کل صبح سے بچ کر ۲۰ منٹ پر شیلو ہاؤس میں مر گیا۔اس وقت اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی موجود نہ تھا۔" ڈوئی کے مرنے کے چند گھنٹے بعد ہی اس کے آراستہ و پیراستہ اقامت گاہ اور اس کے سارے سامان پر سرکاری ریسیور مسٹر جان ہارٹلے نے میحوں کے قرض خواہوں کے نام پر قبضہ کر لیا۔جب ڈوئی کی نعش صندوق میں پڑی ہوئی تھی اس وقت سرکاری کسٹوڈین مکان کے احاطہ میں جائداد کی نگرانی کرتا رہا۔یہ خود مصنوعی پیغمبر کسی اعزاز کے بغیر بالکل کس مپرسی کے عالم میں مرگیا۔اس وقت اس کے پاس نصف درجن سے بھی کم وفادار پیرو موجود تھے جن میں با تنخواہ ملازمین من جملہ ایک حبشی کے شامل تھے۔اس کے بستر موت پر کوئی قریبی عزیز نہ آیا۔اس کی بیوی لڑکا جیمل مشی گن کے دوسری طرف والے مکان بین مکد وہی میں اس عرصہ میں مقیم رہے۔وہ آدمی جس نے دوسروں کو شفا دینے کا پیشہ اختیار کیا وہ خود کو شفا نہ دے سکا۔اس کی غیر مطبع سپرٹ کو اس بیماری کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑا جو اس کو قریب دو سال سے دبوچے ہوئے تھی۔اس کا شفا دینے کا ایمان اس کے فالج ، ڈراپسی اور دوسری پیچیدہ امراض کے سامنے بالکل بے طاقت ثابت ہوا۔" ( ترجمہ ) رسالہ انڈی پینڈنٹ " (۱۴ / مارچ ۱۹۰۷ء) نے لکھا۔ڈوئی اپنی مذہبی اور مالی طاقت میں آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے کمال تک پہنچا مگر پھر یک لخت نیچے اگر ا۔اس حال میں اس کی بیوی اس کا لڑکا اس کا چرچ سب اس کو چھوڑ چکے تھے۔اس نے اپنے مزعومہ پیغمبری مرتبہ کے لئے رنگا رنگ کا ایسا لباس بنایا ہوا تھا جو یوسف یا ہارون نے کبھی نہ پہنا ہوگا۔شہر میحوں کے لئے اور اپنی ذاتی شان و شوکت کے لئے اس نے ان اموال کو جو اس کی تحویل میں دئے گئے ناجائز طور پر استعمال کیا۔ایسے آدمی سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے ناجائز کام کرنا بھی مناسب ہے کیوں کہ ان کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ان کا نظریہ اخلاق دنیا کے مسلمہ نظریات سے بہت بلند ہے۔" امریکن اخبار " ٹروتھ سیکر" (۱۵ / جون ۱۹۰۷ء) نے " مرسلین کی جنگ" کے عنوان سے اداریہ لکھا۔ڈوئی (حضرت) محمد ( ال ) کو مفتریوں کا بادشاہ سمجھتا تھا۔اس نے نہ صرف یہ پیش گوئی کی