تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 250 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 250

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۴۷ اسلام کی نیچ تعظیم مریدوں کی کھلم کھلا بغاوت جوں ہی ڈوئی نے صیحوں سے باہر قدم رکھا اس کے مریدوں کو تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ ایک نہایت ناپاک اور سیاہ کار انسان ہے۔وہ مریدوں کو شراب بلکہ تمباکو نوشی سے بھی روکتا تھا مگر خود گھر جا کر مزے سے شراب پیا کرتا تھا۔چنانچہ اس کے پرائیویٹ کمرہ سے شراب برآمد ہوئی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے تعلقات بعض کنواری لڑکیوں سے تھے۔قریباً پچاس لاکھ روپے کی اس کی خیانت بھی ثابت ہوئی کیوں کہ یہ روپیہ صیحوں کے حساب میں سے کم تھا۔یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ اس نے صرف بطور تحائف میحوں کی خوبصورت عورتوں کو دے دیا تھا۔ان الزامات سے ڈوئی اپنی بریت ثابت نہ کر سکا۔اب نتیجہ یہ ہوا کہ اپریل ۱۹۰۶ء کو اس کی کیبنٹ کے نمائندوں کی طرف سے ڈوئی کو تار دیا گیا کہ ہم تمہاری بجائے والد کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں اور تمہاری منافقت، جھوٹ، غلط بیانیوں فضول خرچیوں مبالغہ آمیزیوں اور ظلم و استبداد کے خلاف زبر دست احتجاج کرتے ہیں۔اس تار میں اسے متنبہ کیا گیا کہ اگر اس نے نئے انتظام میں کوئی مداخلت کی تو اس کے تمام اندرونی رازوں کا پردہ چاک کر دیا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔اس نے یہ کوشش کی کہ عدالتوں کے ذریعہ صیحوں پر اور روپے پر قبضہ حاصل کرلے مگر اس موت میں بھی اسے ناکامی ہوئی۔وہ صیحوں کے شہر میں جہاں ہزاروں آدمی اس کے ادنی اشارے پر چلتے تھے واپس آیا تو ایک بھی آدمی اس کے استقبال کے لئے موجود نہ تھا۔اس نے چاہا کہ اپنے مریدوں کے سامنے اپیل کر کے ان کو پھر اپنا مطیع کرلے مگر چاروں طرف سے اس کے لئے مایوسی ہی مایوسی تھی۔جسمانی طور پر اس کی حالت ایسی خراب ہو گئی کہ وہ خود اٹھ کر ایک قدم بھی نہ چل سکتا تھا بلکہ اس کے حبشی ملازم اسے ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ لے جاتے تھے۔اسی حالت میں وہ دیوانہ ہو گیا اور بالا خر ۹ / مارچ ۱۹۰۷ء کی صبح کو بڑے دکھ اور حسرت کے ساتھ دنیا سے کوچ کر گیا اور خدا کے مقدس مسیح موعود کے یہ الفاظ کہ وہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا" عبرت ناک رنگ میں پورے ہو گئے۔امریکہ اور یورپ کے پریس کا تبصرہ ڈوئی کی ہلاکت پر فرولی کی ہلاکت کا نشان دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی نوعیت کا نشان تھا جس نے مغرب کی مادیت پرست دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور امریکہ اور یورپ کے بعض اخبارات کو تسلیم کرنا پڑا کی محمدی مسیح کی پیش گوئی ایسی شان سے پوری ہوئی ہے جس پر وہ جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔