تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 249 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 249

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۴۶ اسلام کی طرح عظیم کہ کیوں تم فلاں فلاں بات کا جواب نہیں دیتے۔جواب ! کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان کیڑوں مکوڑوں کو جواب دوں گا۔اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھوں تو ایک دم ان کو کچل سکتا ہوں۔مگر میں ان کو موقع دیتا ہوں کہ میرے سامنے سے دور چلے جائیں اور کچھ دن اور زندہ رہ لیں۔" ۱۲ / دسمبر ۱۹۰۳ کو لکھا ” اگر میں خدا کی زمین پر خدا کا پیغمبر نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں۔" اس کے معا بعد اس نے ۲۷/ دسمبر ۱۹۰۳ء کے اخبار میں نہایت بد زبانی سے حضور کے لئے بیوقوف محمدی مسیح" کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا۔ہندوستان میں ایک بے وقوف شخص ہے جو محمدی مسیح ہونے کا دعوی کرتا ہے۔وہ مجھے بار بار کہتا ہے کہ حضرت عیسی کشمیر میں مدفون ہیں جہاں ان کا مقبرہ دیکھا جا سکتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا ہے کہ اس نے خود وہ (مقبرہ) دیکھا ہے مگر بے چارہ دیوانہ اور جاہل شخص پھر بھی یہ بہتان لگاتا ہے کہ حضرت مسیح ہندوستان میں فوت ہوئے۔واقعہ یہ ہے کہ خداوند صحیح بیت منیاہ کے مقام پر آسمان پر اٹھایا گیا جہاں وہ اپنے سمادی جسم میں موجود ہے۔" پھر ۲۳ جنوری ۱۹۰۴ء کو مسلمانوں کی تباہی کی پیش گوئی دوہراتے ہوئے لکھا۔" سینکڑوں ملین مسلمان جو اس وقت ایک جھوٹے نبی کے قبضہ میں ہیں انہیں یا تو خدائی آواز سننی پڑے گی یا وہ تباہ ہو جائیں گے۔" ڈوئی کی اخلاقی موت یوں کھلم کھلا مقابلہ میں آنے کے بعد ڈوئی کا کیا عبرت ناک انجام ہوا اب اس کی تفصیل سنئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق ڈوئی کے خدائی قمر کی زد میں آنے کی اولین صورت خود اس کے ہاتھوں یہ پیدا ہوئی کہ اس کی پیدائش ناجائز نکلی اور وہ ولد الحرام ثابت ہوا۔یہ حقیقت اخبار نیو یارک ورلڈ" کے ذریعہ سے منکشف ہوئی جس نے ڈوئی کے سات خطوط شائع کئے جو اس نے اپنے باپ ” جان مرے ڈوئی " کو اپنی ناجائز ولدیت کے بارہ میں لکھے تھے۔جب ملک میں اس امر کا چرچا عام ہونے لگا تو خود ” ڈاکٹر جان الیگزنڈر ڈرئی" نے ۲۵/ ستمبر ۱۹۰۴ء کو اعلان کیا کہ وہ چونکہ ڈوئی کا بیٹا نہیں اس لئے "ڈر کی " کا لفظ اس کے نام کے ساتھ ہر گز استعمال نہ کیا جائے۔فالج کا حملہ اس اخلاقی موت کے ایک سال کے بعد کم اکتوبر ۱۹۰۵ء کو اس پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ابھی اس کے اثرات چل رہے تھے کہ 19 دسمبر ۱۹۰۵ء کو اس پر دوبارہ فالج گرا اور وہ اس سخت بیماری سے لاچار ہو کر میحوں سے ایک جزیرہ کی طرف چلا گیا۔