تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 231
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۲۸ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی ہی حق و باطل کا فیصلہ ہو گیا اور صداقت کی فتح ہوئی۔آخری مضمون صداقت مسیح موعود کے بارے میں تھا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے قرآن شریف سے معیار صداقت پیش کر کے حضرت مسیح موعود کی سچائی واضح فرمائی۔مولوی ثناء اللہ صاحب جو ”حیات مسیح" کے مسئلہ میں کھلی شکست و ہزیمت اٹھا چکے تھے اس مرتبہ بھی اصل مسئلہ سے گریز اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔دوران مباحثہ میں انہوں نے قرآنی آیات کے جواب میں جو بات کہی وہ ان کی عالمانہ حیثیت کو واضح کرنے کے لئے کافی تھی۔انہوں نے بحث کے دوران کہا کہ ہمارے پاس احادیث موجود ہیں اس کے مقابل قرآن تو بیکار شے ہے۔یہی نہیں قرآنی دلائل سے عاجز ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف سخت دشنام طرازی اور دروغ گوئی پر اتر آئے اور قسمیں کھا کھا کر اور خلاف واقعہ اعتراضات کر کر کے لوگوں کو خوب بھڑکایا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے اس موقعہ پر علمی دلائل پیش کئے۔سامعین عموماً دیہاتی لوگ تھے اس لئے وہ بار یک علمی بحث تو پوری طرح سمجھ نہ سکتے تھے ہاں مولوی ثناء اللہ صاحب کی گالیوں اور پھبتیوں سے انہوں نے خوب لطف اٹھایا۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے سوانح نگار مولوی عبد المجید صاحب سوہدروی نے اپنی کتاب ”سیرت ثنائی" میں جہاں مولوی ثناء اللہ صاحب کے دو سرے مناظروں کا ذکر کیا ہے وہاں مباحثہ مد کا نام تک نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں علمی لحاظ سے ضیغم اسلام حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کے مقابل حقیقتاً سخت زک اٹھانا پڑی تھی۔مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی واپسی اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مباحثه میں کامیاب و کامراں ہو کر یکم نومبر ۱۹۰۲ء کو حضرت مسیح موعود کی جماعت کو قیمتی نصائح قادیان میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مناظرہ کی تفصیل عرض کی۔اور حضور کی مجالس میں کئی دنوں تک اس کا چرچا رہا۔حضور کو مباحثہ کی کارروائی سنائی گئی تو حضور نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پرچہ لکھنے کے لئے ہیں ہیں منٹ وقت مقرر کیا گیا۔اور اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ایسے موقعہ پر جب مخالف بہت سے اعتراضات رکھ دے تو معترض کا سب سے اہم اعتراض لے لیں اور اس کا فیصلہ کر کے آگے بڑھیں۔اصولا گفتگو کرنے سے پہلے کچھ ضوابط مقرر کر لئے جائیں اور مخالف سے دریافت کر لیا جائے کہ وہ منہاج نبوت کو مانتا ہے یا نہیں۔پھر عوام الناس کے سامنے ہمیشہ موٹی موٹی باتیں رکھنی چاہیے۔بلاغت کا کمال یہ بھی ہے کہ ایک بات دوسرے کے دل تک پہنچائی جائے۔اور یہ امر ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ فریق مخالف اپنی چالاکی سے سامعین کو دھوکہ نہ دے جائے۔اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ